ٹھنڈا برگد
کرنوں جیسی شاخوں والا ٹھنڈا برگد
شاخوں کی پوروں سے بہتے خون نے
کتنی نظمیں، کتنی غزلیں
کتنے ہی الہامی خواب
اور تصوّف کے نکتے
وقت کے ہاتھوں بانٹ دئیے ہیں
جس کی پیشانی سے
چاند نے روشنی بھیک میں مانگی ہے
جس کے ہاتھ پہ بیت کر کے
سُورج مغرب میں ڈُوبا ہے
اس کے ہاتھ بھی
خوں ٹپکاتی پوروں والے
ہاتھ ابھی تک خالی ہیں
زعیم مشتاق
No comments:
Post a Comment