آنکھیں جھُکا کے رات بے چارے کھڑے رہے
چندا کے انتظار میں تارے کھڑے رہے
وہ جا رہا تھا دُور بہت دُور اور ہم
بہتی ندی کے عین کنارے کھڑے رہے
تُو نے جو رات جسم کو چھیڑا کھڑے کھڑے
ایسے میں میرے رونگٹے سارے کھڑے رہے
ویسے تِرے پلٹنے کی اُمید تھی نہیں
بس ایک معجزے کے سہارے کھڑے رہے
مولا گواہ رہنا! کہ کربل سے قبر تک
تیری صدا پہ ہاتھ ہمارے کھڑے رہے
دہر کاظمی
No comments:
Post a Comment