Wednesday, 21 April 2021

چراغ طاق ابد جل رہا ہے میرے ساتھ

 چراغِ طاقِ ابد جل رہا ہے میرے ساتھ

مِرے سوا بھی کوئی چل رہا ہے میرے ساتھ

جمی ہے ساعتِ آئندہ پر نگاہ مِری

کہ میرا عصر بھی اب ڈھل رہا ہے میرے ساتھ

میں اپنی قید سے آزاد ہو نہیں پایا

مِرے وجود کا مقتل رہا ہے میرے ساتھ

خبر کسی کو نہیں ہے کہ میرا ماضی بھی

اسیرِ خانہ جدول رہا ہے میرے ساتھ

میں بے سبب کوئی الزام کیوں دھروں اُس پر

نہیں ہے آج مگر کل رہا ہے میرے ساتھ

نہیں ہے میرے مقدر میں تخلیہ ساجد

کوئی ازل سے مسلسل رہا ہے میرے ساتھ


غلام حسین ساجد

No comments:

Post a Comment