درد کی جب انتہا ہو جائے گی
انتہا خود ہی دوا ہو جائے گی
رابطہ رکھیے غموں سے خود بخود
زندگی غم آشنا ہو جائے گی
کر نہ اے دل شکوۂ جور و جفا
ورنہ توہین وفا ہو جائے گی
درد کی جب انتہا ہو جائے گی
انتہا خود ہی دوا ہو جائے گی
رابطہ رکھیے غموں سے خود بخود
زندگی غم آشنا ہو جائے گی
کر نہ اے دل شکوۂ جور و جفا
ورنہ توہین وفا ہو جائے گی
مایوس اتنے ہو گئے تیرہ شبی سے ہم
دامن بچائے پھرتے ہیں اب روشنی سے ہم
اے گردش زمانہ! ہمیں دھمکیاں نہ دے
ہر وقت کام لیتے ہیں زندہ دلی سے ہم
جو ہیں بلند حوصلہ کہتے نہیں کبھی
تنگ آ گئے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
ان سے اظہار خواہشات نہ کر
اور تازہ غمِ حیات نہ کر
جس سے اے دوست دل کو ٹھیس لگے
مجھ سے للہ ایسی بات نہ کر
رخ پہ اس طرح کاکلیں نہ بکھیر
صبح روشن کو کالی رات نہ کر
موسم گل ہے گھٹا ہے جام ہے
انتظار ساقیٔ گلفام ہے
ایک ساقی ایک مے اک جام ہے
پھر یہ کیسا فرق خاص و عام ہے
غم تو ہے اس واسطے مجھ کو عزیز
یہ تِرا بخشا ہوا انعام ہے
بدلی بدلی تری نظر کیوں ہے
تُو خفا مجھ سے اس قدر کیوں ہے
گفتگو میں اگر مگر کیوں ہے؟
بات کہنے میں تجھ کو ڈر کیوں ہے
دل کے زخموں کو چاک کرنے میں
یہ پس و پیش چارہ گر کیوں ہے