Showing posts with label نصیر انصاری. Show all posts
Showing posts with label نصیر انصاری. Show all posts

Friday, 4 September 2026

درد کی جب انتہا ہو جائے گی

 درد کی جب انتہا ہو جائے گی

انتہا خود ہی دوا ہو جائے گی

رابطہ رکھیے غموں سے خود بخود

زندگی غم آشنا ہو جائے گی

کر نہ اے دل شکوۂ جور و جفا

ورنہ توہین وفا ہو جائے گی

Sunday, 15 March 2026

مایوس اتنے ہو گئے تیرہ شبی سے ہم

 مایوس اتنے ہو گئے تیرہ شبی سے ہم

دامن بچائے پھرتے ہیں اب روشنی سے ہم

اے گردش زمانہ! ہمیں دھمکیاں نہ دے

ہر وقت کام لیتے ہیں زندہ دلی سے ہم

جو ہیں بلند حوصلہ کہتے نہیں کبھی

تنگ آ گئے ہیں کشمکش زندگی سے ہم

Friday, 10 January 2025

ان سے اظہار خواہشات نہ کر

 ان سے اظہار خواہشات نہ کر

اور تازہ غمِ حیات نہ کر

جس سے اے دوست دل کو ٹھیس لگے

مجھ سے للہ ایسی بات نہ کر

رخ پہ اس طرح کاکلیں نہ بکھیر

صبح روشن کو کالی رات نہ کر

Tuesday, 3 December 2024

موسم گل ہے گھٹا ہے جام ہے

 موسم گل ہے گھٹا ہے جام ہے

انتظار ساقیٔ گلفام ہے

ایک ساقی ایک مے اک جام ہے

پھر یہ کیسا فرق خاص و عام ہے

غم تو ہے اس واسطے مجھ کو عزیز

یہ تِرا بخشا ہوا انعام ہے

Saturday, 30 November 2024

بدلی بدلی تری نظر کیوں ہے

 بدلی بدلی تری نظر کیوں ہے

تُو خفا مجھ سے اس قدر کیوں ہے

گفتگو میں اگر مگر کیوں ہے؟

بات کہنے میں تجھ کو ڈر کیوں ہے

دل کے زخموں کو چاک کرنے میں

یہ پس و پیش چارہ گر کیوں ہے