آخری خط
رات کا وقت ہے آہوں کا دھواں ہو جیسے
چاند خاموش ہے روٹھی ہوئی قسمت کی طرح
سرمئی طاق میں مٹی کا دیا جلتا ہے
کروٹیں لیتی رہی اونگھتے کمرے کی فضا
کروٹیں لیتی رہی اونگھتے کمرے کی فضا
اور میں رات کے روتے ہوئے سناٹے میں
آخری خط
رات کا وقت ہے آہوں کا دھواں ہو جیسے
چاند خاموش ہے روٹھی ہوئی قسمت کی طرح
سرمئی طاق میں مٹی کا دیا جلتا ہے
کروٹیں لیتی رہی اونگھتے کمرے کی فضا
کروٹیں لیتی رہی اونگھتے کمرے کی فضا
اور میں رات کے روتے ہوئے سناٹے میں
گھر سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
کون صحرا میں دے گیا ہے صدا
میں نے جب اس کی خیریت پوچھی
اس نے باتوں میں مجھ کو ٹال دیا
کتنے پنکھے لگا دئیے چھت میں
پھر بھی گرمی کا زور کم نہ ہوا
اجنبی شہر میں
اجنبی شہر میں
اجنبیت کا احساس ہوتا نہیں
پھُول پتے ہرے پیڑ پرچھائیاں
اونچی نیچی عمارات سڑکیں گلی کُوچے بازار
مُسکراتے ہوئے راستے
کتنے مانوس ہیں
سُورج کی آنکھ نہیں روتی
لمحہ لمحہ موم پگھلتا ہے
کھارا پانی کوئی نہیں پیتا
کتنے جگنو
سرد ہوا کے اک جھونکے سے
بُجھ جاتے ہیں
چلمن سے باہر جھانکنے والے آنسو کی