Showing posts with label علی اصغر. Show all posts
Showing posts with label علی اصغر. Show all posts

Monday, 29 December 2025

رات کا وقت ہے آہوں کا دھواں ہو جیسے

 آخری خط


رات کا وقت ہے آہوں کا دھواں ہو جیسے

چاند خاموش ہے روٹھی ہوئی قسمت کی طرح

سرمئی طاق میں مٹی کا دیا جلتا ہے

کروٹیں لیتی رہی اونگھتے کمرے کی فضا

کروٹیں لیتی رہی اونگھتے کمرے کی فضا

اور میں رات کے روتے ہوئے سناٹے میں

Monday, 28 April 2025

گھر سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

 گھر سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

کون صحرا میں دے گیا ہے صدا

میں نے جب اس کی خیریت پوچھی

اس نے باتوں میں مجھ کو ٹال دیا

کتنے پنکھے لگا دئیے چھت میں

پھر بھی گرمی کا زور کم نہ ہوا

Tuesday, 12 October 2021

اجنبی شہر میں اجنبیت کا احساس ہوتا نہیں

اجنبی شہر میں


اجنبی شہر میں

اجنبیت کا احساس ہوتا نہیں

پھُول پتے ہرے پیڑ پرچھائیاں

اونچی نیچی عمارات سڑکیں گلی کُوچے بازار

مُسکراتے ہوئے راستے

کتنے مانوس ہیں

Wednesday, 14 July 2021

سورج کی آنکھ نہیں روتی دل جلتا ہے

سُورج کی آنکھ نہیں روتی


لمحہ لمحہ موم پگھلتا ہے

کھارا پانی کوئی نہیں پیتا

کتنے جگنو

سرد ہوا کے اک جھونکے سے

بُجھ جاتے ہیں

چلمن سے باہر جھانکنے والے آنسو کی