اجنبی شہر میں
اجنبی شہر میں
اجنبیت کا احساس ہوتا نہیں
پھُول پتے ہرے پیڑ پرچھائیاں
اونچی نیچی عمارات سڑکیں گلی کُوچے بازار
مُسکراتے ہوئے راستے
کتنے مانوس ہیں
ہر طرف رُوح پرور سکوں
دل کی گہرائیوں سے مخاطب ہے
ٹھنڈی ہوا
ذہن کے تانے بانے بدلنے لگی
زندہ رہنے کی خواہش مچلنے لگی
رات ڈھلنے لگی
زندگی بھُول ہے
زندگی پھُول ہے
پھُول کا رنگ ہے
پھُول کی باس ہے
دل مِرے پاس ہے
علی اصغر
No comments:
Post a Comment