Tuesday, 12 October 2021

اجنبی شہر میں اجنبیت کا احساس ہوتا نہیں

اجنبی شہر میں


اجنبی شہر میں

اجنبیت کا احساس ہوتا نہیں

پھُول پتے ہرے پیڑ پرچھائیاں

اونچی نیچی عمارات سڑکیں گلی کُوچے بازار

مُسکراتے ہوئے راستے

کتنے مانوس ہیں

ہر طرف رُوح پرور سکوں

دل کی گہرائیوں سے مخاطب ہے

ٹھنڈی ہوا

ذہن کے تانے بانے بدلنے لگی

زندہ رہنے کی خواہش مچلنے لگی

رات ڈھلنے لگی

زندگی بھُول ہے

زندگی پھُول ہے

پھُول کا رنگ ہے

پھُول کی باس ہے

دل مِرے پاس ہے


علی اصغر

No comments:

Post a Comment