Tuesday, 12 October 2021

اس دشت کی وسعت میں سمٹ کر نہیں دیکھا

 اس دشت کی وسعت میں سمٹ کر نہیں دیکھا

اک عمر چلے اور پلٹ کر نہیں دیکھا

ہم اہلِ نظر ہو کے بھی کب اہلِ نظر تھے

حالات کو خود سے کبھی ہٹ کر نہیں دیکھا

احباب کی بانہوں کا نشہ اور ہے، لیکن

تُو نے کبھی دشمن سے لپٹ کر نہیں دیکھا

اک درد کے دھاگے میں پروئے ہیں ازل سے

اس رشتۂ موہوم سے کٹ کر نہیں دیکھا

یا رات کے دامن میں ستارے ہی بہت تھے

یا ہم نے چراغوں کو الٹ کر نہیں دیکھا

کیسے نظر آتے مری آنکھوں کے جزیرے

اس بحر طلب نے کبھی گھٹ کر نہیں دیکھا

شہزاد قمر! دیکھ رہا ہے وہی دنیا

خانوں میں جہاں زیست نے بٹ کر نہیں دیکھا


شہزاد قمر

No comments:

Post a Comment