Tuesday, 12 October 2021

بے وفا ہجر کے آزار اٹھا چھوڑ مجھے

بے وفا ہجر کے آزار اُٹھا چھوڑ مجھے

عشق تکیے پہ پڑے بار اٹھا چھوڑ مجھے

دوسرا خانہ تِرے دل کا کسی اور کا ہے

جا وہاں اور بٹھا یار اٹھا چھوڑ مجھے

میری راہوں میں بھرے خار تِرے حصے کے

تُو کسی اور کے اب خار اٹھا چھوڑ مجھے

یہ جو مقتل ہے بہت دیکھا ہوا لگتا ہے

سامنے آ کے مِرے دار اٹھا چھوڑ مجھے

یہ مِری سانس مِری آس نہیں مہلت ہے

زندگی اپنی تو بے کار اٹھا چھوڑ مجھے


ہما شاہ

No comments:

Post a Comment