Tuesday, 12 October 2021

میرے پہلو میں جو بہہ نکلے تمہارے آنسو

 میرے پہلو میں جو بہہ نکلے تمہارے آنسو

بن گئے شامِ محبت کے ستارے آنسو

دیکھ سکتا ہے بھلا کون یہ پارے آنسو

میری آنکھوں میں نہ آ جائیں تمہارے آنسو

شمع کا عکس جھلکتا ہے جو ہر آنسو میں

بن گئے بھیگی ہوئی رات کے تارے آنسو

مینہ کی بوندوں کی طرح ہو گئے سستے کیوں آج

موتیوں سے کہیں مہنگے تھے تمہارے آنسو

صاف اقرارِ محبت ہو زباں سے کیوں کر

آنکھ میں آ گئے یوں شرم کے مارے آنسو

ہجر ابھی دور ہے میں پاس ہوں اے جانِ وفا

کیوں ہوئے جاتے ہیں بے چین تمہارے آنسو

صبح دم دیکھ نہ لے کوئی یہ بھیگا آنچل

میری چغلی کہیں کھا دیں نہ تمہارے آنسو

اپنے دامان و گریباں کو میں کیوں پیش کروں

ہیں مِرے عشق کا انعام تمہارے آنسو

دمِ رخصت ہے قریب اے غمِ فرقت خوش ہو

کرنے والے ہیں جدائی کے اشارے آنسو

صدقے جاؤں اس جانِ محبت کے میں

رات بھر بہتے رہے شوق کے مارے آنسو


بدر نوید

No comments:

Post a Comment