غمزدہ شخص کے غمخوار بڑے اچھے تھے
ڈوبتی ناؤ کے پتوار بڑے اچھے تھے
میں ہی بے کار تھا، آتی نہ تھی دنیاداری
سچ تو یہ ہے کہ مِرے یار بڑے اچھے تھے
جانے کیا بات ہوئی، شوق نہ پروان چڑھا
ویسے تو عشق کے آثار بڑے اچھے تھے
چہرے روشن تھے اور اعضاء میں بڑی طاقت تھی
تجھ سے پہلے تِرے بیمار بڑے اچھے تھے
اس لیے خود کو نکالا نہ اذیت سے کبھی
دل کو لگتے ہوئے آزار بڑے اچھے تھے
مے تو پیتے تھے مگر جھوٹ نہیں بولتے تھے
نیک لوگوں سے گنہ گار بڑے اچھے تھے
کیا بتاؤں میں قبیلے کی روایت فیصل
مفلسی جرم تھی سردار بڑے اچھے تھے
فیصل امام رضوی
No comments:
Post a Comment