Tuesday, 12 October 2021

وہ گرد ہے کہ وقت سے اوجھل تو میں بھی ہوں

وہ گرد ہے کہ وقت سے اوجھل تو میں بھی ہوں

پھر بھی غبار جیسا کوئی پل تو میں بھی ہوں

خواہش کی وحشتوں کا یہ جنگل ہے پُر خطر

مجھ سے بھی احتیاط کہ جنگل تو میں بھی ہوں

لگتا نہیں کہ اس سے مراسم بحال ہوں

میں کیا کروں کہ تھوڑا سا پاگل تو میں بھی ہوں

وہ میرے دل کے گوشے میں موجود ہے کہیں

اور اس کے دل میں تھوڑی سی ہلچل تو میں بھی ہوں

نکلے ہو قطرہ قطرہ محبت تلاشنے

دیکھو ادھر کہ پیار کی چھاگل تو میں بھی ہوں

کیسے اسے نکالوں میں زندانِ ذات سے

زندانِ ذات ہی میں مقفل تو میں بھی ہوں

ماضی کے آئینے میں عطا کوئی خوش ادا

شکوہ کناں تھا کہتا تھا سانول تو میں بھی ہو


عطاءالحق قاسمی

No comments:

Post a Comment