Showing posts with label حرا زرین. Show all posts
Showing posts with label حرا زرین. Show all posts

Sunday, 25 April 2021

مرے کوزہ گر مجھے مان دے

 مِرے کوزہ گر مجھے مان دے

مجھے اپنے ہاتھ سے جام دے

مِرے دل کی دھرتی پہ دھر قدم

مجھے تو حسین سا نام دے

مجھے اپنے عہد میں باندھ لے

مجھے صندلیں سا پیام دے

Tuesday, 6 April 2021

سماں پر ہے غازہ شفق ڈھل رہا ہے

 سماں پر ہے غازہ، شفق ڈھل رہا ہے

فلک سے پرے بھی کوئی مل رہا ہے

عبادت ریا ہے ریاضت ریا ہے 

زمانہ یہ کیسی ڈگر چل رہا ہے 

وصالِ محبت تو کب ہے مقدر

جفا ہے سزا ہے، یہی کل رہا ہے 

Monday, 5 April 2021

کہاں تلک میں آ گیا ہوں خود کو بھول بھال کر

 کہاں تلک میں آ گیا ہوں خود کو بھول بھال کر

کدُورتوں کو چھوڑ دے او یار کچھ خیال کر

یوں راستے میں اک نظر کا التفات چہ سبب 

جگر ہے تو محبتوں کا سلسلہ بحال کر

بلندیوں کی آرزو بُری نہیں مگر یہ سُن 

انا کا بادبان چیر، عجز سے سوال کر

وہ دل ہی کیا جو کار محبت نہ کر سکا

وہ دل ہی کیا جو کار محبت نہ کر سکا

جلتا رہا خرد سے بغاوت نہ کر سکا

وہ مصلحت پسند، اسی دام میں رہا

سو عشق ماورائے روایت نہ کر سکا

کچھ تلخئ حیات نے فرصت نہ دی ہمیں

کچھ دل بھی اسکی سمت ریاضت نہ کر سکا

تم ساز ہو مضراب ہو انداز ہو احساس ہو

 تم ساز ہو، مضراب ہو، انداز ہو، احساس ہو 

تم زندگی، تم بندگی، اے ہم نشیں تم خاص ہو

تم بے کلی کی ہو دوا، تم بے بسی میں التجا

تم ہی دعا، تم ہی ردا، مجھ بے اماں کی آس ہو

تم مرحلہ، منزل ہو تم، تم آرزو، حاصل ہو تم 

تم صبح کی پہلی ضیا، گر دشت میں تم پیاس ہو