Tuesday, 6 April 2021

سماں پر ہے غازہ شفق ڈھل رہا ہے

 سماں پر ہے غازہ، شفق ڈھل رہا ہے

فلک سے پرے بھی کوئی مل رہا ہے

عبادت ریا ہے ریاضت ریا ہے 

زمانہ یہ کیسی ڈگر چل رہا ہے 

وصالِ محبت تو کب ہے مقدر

جفا ہے سزا ہے، یہی کل رہا ہے 

یہ منت مُرادیں نہیں کام آنی

رضا پہ جھُکا سر، یہی حل رہا ہے

یہ انصاف کیسا خداوند تیرا

کسی سر پہ سایہ، کوئی جل رہا ہے

عمل کی سزا تھی دُعا سے ٹلی جو 

وہ سمجھے کہ طُوفان تھا، ٹل رہا ہے 

یہ تیری نظر کا ہے اعجاز ساقی

سبُو بھر رہا ہے، نشہ پل رہا ہے


حرا زرین

No comments:

Post a Comment