Tuesday, 6 April 2021

آپ کے تغافل کا سلسلہ پرانا ہے

 آپ کے تغافل کا سلسلہ پرانا ہے

اس طرف نگاہیں ہیں اس طرف نشانہ ہے

منزلوں کی باتیں تو منزلوں پہ کر لیں گے

ہم کو تو چٹانوں میں راستہ بنانا ہے

تم بھی ڈُوبے ڈُوبے تھے میں بھی کھوئی کھوئی تھی

وہ بھی کیا زمانہ تھا، یہ بھی کیا زمانہ ہے

سوچتے ہیں ہم خود ہی ڈُوب جائیں ساحل پر

عشق کے سفینے کو یوں بھی ڈُوب جانا ہے

فاصلہ بڑھانے سے کیا مِلا زمانے کو

جب بھی آنا جانا تھا، اب بھی آنا جانا ہے


حنا تیموری

No comments:

Post a Comment