مقدر آزمانے میں زمانے بِیت جاتے ہیں
مرادیں دل کی پانے میں زمانے بیت جاتے ہیں
محبت زندگی میں گو بڑی مشکل سے ملتی ہے
مگر اس کو نبھانے میں زمانے بیت جاتے ہیں
نہیں کرتا کوئی ہمت اگر اظہارِ الفت کی
زباں پر بات لانے میں زمانے بیت جاتے ہیں
اگر اک بار آنکھوں میں اچانک آ بسے کوئی
اسے دل سے بھُلانے میں زمانے بیت جاتے ہیں
کوئی پوچھے تو آ کر بے بسی تنخواہ داروں کی
مکاں جن کو بنانے میں زمانے بیت جاتے ہیں
ثمینہ گل
No comments:
Post a Comment