Showing posts with label میر بیدار. Show all posts
Showing posts with label میر بیدار. Show all posts

Saturday, 27 February 2021

نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئے

 نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئے

اتنی رخصت دیجئے بندہ نوازی کیجئے

چاہئے جو کچھ سو ہو پہلے ہی سجدہ میں حصول

آپ کو گر کعبۂ دل کا نمازی کیجئے

جس نے اک جلوہ کو دیکھا جی دیا پروانہ وار

اس قدر اے شمع رویاں حسن سازی کیجئے

Friday, 26 February 2021

بھرے موتی ہیں گویا تجھ دہن میں

 بھرے موتی ہیں گویا تجھ دہن میں 

کہ در ریزی تو کرتا ہے سخن میں 

بہار آرا وہی ہے ہر چمن میں 

اسی کی بُو ہے نسرین و سمن میں 

نہ پھر ایدھر اودھر ناحق بھٹکتا 

کہ ہے وہ جلوہ گر تیرے ہی من میں 

Monday, 25 January 2021

جو ہوئی سو ہوئی جانے دو ملو بسم اللہ

 جو ہوئی سو ہوئی جانے دو ملو بسم اللہ 

جام مے ہاتھ سے لو میرے پیو بسم اللہ 

منتظر آپ کے آنے کا کئی دن سے ہوں 

کیا ہے تاخیر قدم رنجہ کرو بسم اللہ 

لے چکے دل تو پھر اب کیا ہے سبب رنجش کا 

جی بھی حاضر ہے جو لیتے ہو تو لو بسم اللہ 

Sunday, 17 January 2021

گر کہیں اس کو جلوہ گر دیکھا

 گر کہیں اس کو جلوہ گر دیکھا 

نہ گیا ہم سے آنکھ بھر دیکھا 

نالہ ہر چند ہم نے گر دیکھا 

آہ اب تک نہ کچھ اثر دیکھا 

آج کیا جی میں آ گیا تیرے 

متبسم ہو جو ادھر دیکھا 

Saturday, 16 January 2021

آ تیری گلی میں مر گئے ہم

 آ تیری گلی میں مر گئے ہم

منظور جو تھا سو کر گئے ہم

تجھ بِن گلشن میں گر گئے ہم

جوں شبنم چشم تر گئے ہم

پاتے نہیں آپ کو کہیں یاں

حیران ہیں کس کے گھر گئے ہم

Friday, 15 January 2021

تو نے جو کچھ کہ کیا میرے دل زار کے ساتھ

 تُو نے جو کچھ کہ کیا میرے دلِ زار کے ساتھ

آگ نے بھی نہ کیا وہ تو خس و خار کے ساتھ

آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا کبھی تُو نے ظالم

سر پٹک مر گئے لاکھوں تِری دیوار کے ساتھ

یہ کئی تار ہیں وہ رشتۂ جاں ہے یکسر

غلط اس زلف کی تشبیہ ہے زنار کے ساتھ

Thursday, 14 January 2021

اوروں کی بات یاں بہت کم ہے

 اوروں کی بات یاں بہت کم ہے 

ذکر خیر آپ کا ہی ہر دم ہے 

جان تک تو نہیں ہے تجھ سے دریغ 

اے میں قربان کیوں تو برہم ہے 

گاہ رونا ہے، گاہ ہنسنا ہے 

عاشقی کا بھی زور عالم ہے 

Wednesday, 13 January 2021

کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گا

 کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گا 

اسی طرح گر تُو مقابل رہے گا 

کھلی جب گِرہ بند ہستی کی تجھ سے 

تو عقدہ کوئی پھر نہ مشکل رہے گا 

دل خلق میں تخم احساں کے بو لے 

یہی کشت دنیا کا حاصل رہے گا 

Tuesday, 12 January 2021

اس ستمگر سے جو ملا ہو گا

 اس ستم گر سے جو ملا ہو گا

جان سے ہاتھ دھو چکا ہو گا

عشق میں تیرے ہم جو کچھ دیکھا

نہ کسی نے کبھی سنا ہو گا

آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا

دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہو گا

Monday, 11 January 2021

تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو

 تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو

یہ تو کہنے ہی کی باتیں ہیں کہاں سنتے ہو 

چاہ کا ذکر تمہاری میں کیا کس آگے 

کون کہتا ہے کہو کس کی زباں سنتے ہو 

کشش عشق ہی لائی ہے تمہیں یاں ورنہ 

آپ سے تھا نہ مجھے یہ تو گماں سنتے ہو 

Sunday, 10 January 2021

دور سے بات خوش نہیں آتی

 دور سے بات خوش نہیں آتی 

یوں ملاقات خوش نہیں آتی 

تجھ بِن اے ماہ رُو کبھی مجھ کو 

چاندنی رات خوش نہیں آتی 

جائے بوسہ کے گالیاں دیجے 

یہ عنایات خوش نہیں آتی