نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئے
اتنی رخصت دیجئے بندہ نوازی کیجئے
چاہئے جو کچھ سو ہو پہلے ہی سجدہ میں حصول
آپ کو گر کعبۂ دل کا نمازی کیجئے
جس نے اک جلوہ کو دیکھا جی دیا پروانہ وار
اس قدر اے شمع رویاں حسن سازی کیجئے
نشہ میں جی چاہتا ہے بوسہ بازی کیجئے
اتنی رخصت دیجئے بندہ نوازی کیجئے
چاہئے جو کچھ سو ہو پہلے ہی سجدہ میں حصول
آپ کو گر کعبۂ دل کا نمازی کیجئے
جس نے اک جلوہ کو دیکھا جی دیا پروانہ وار
اس قدر اے شمع رویاں حسن سازی کیجئے
بھرے موتی ہیں گویا تجھ دہن میں
کہ در ریزی تو کرتا ہے سخن میں
بہار آرا وہی ہے ہر چمن میں
اسی کی بُو ہے نسرین و سمن میں
نہ پھر ایدھر اودھر ناحق بھٹکتا
کہ ہے وہ جلوہ گر تیرے ہی من میں
جو ہوئی سو ہوئی جانے دو ملو بسم اللہ
جام مے ہاتھ سے لو میرے پیو بسم اللہ
منتظر آپ کے آنے کا کئی دن سے ہوں
کیا ہے تاخیر قدم رنجہ کرو بسم اللہ
لے چکے دل تو پھر اب کیا ہے سبب رنجش کا
جی بھی حاضر ہے جو لیتے ہو تو لو بسم اللہ
گر کہیں اس کو جلوہ گر دیکھا
نہ گیا ہم سے آنکھ بھر دیکھا
نالہ ہر چند ہم نے گر دیکھا
آہ اب تک نہ کچھ اثر دیکھا
آج کیا جی میں آ گیا تیرے
متبسم ہو جو ادھر دیکھا
آ تیری گلی میں مر گئے ہم
منظور جو تھا سو کر گئے ہم
تجھ بِن گلشن میں گر گئے ہم
جوں شبنم چشم تر گئے ہم
پاتے نہیں آپ کو کہیں یاں
حیران ہیں کس کے گھر گئے ہم
تُو نے جو کچھ کہ کیا میرے دلِ زار کے ساتھ
آگ نے بھی نہ کیا وہ تو خس و خار کے ساتھ
آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا کبھی تُو نے ظالم
سر پٹک مر گئے لاکھوں تِری دیوار کے ساتھ
یہ کئی تار ہیں وہ رشتۂ جاں ہے یکسر
غلط اس زلف کی تشبیہ ہے زنار کے ساتھ
اوروں کی بات یاں بہت کم ہے
ذکر خیر آپ کا ہی ہر دم ہے
جان تک تو نہیں ہے تجھ سے دریغ
اے میں قربان کیوں تو برہم ہے
گاہ رونا ہے، گاہ ہنسنا ہے
عاشقی کا بھی زور عالم ہے
کہاں ہم رہے پھر کہاں دل رہے گا
اسی طرح گر تُو مقابل رہے گا
کھلی جب گِرہ بند ہستی کی تجھ سے
تو عقدہ کوئی پھر نہ مشکل رہے گا
دل خلق میں تخم احساں کے بو لے
یہی کشت دنیا کا حاصل رہے گا
اس ستم گر سے جو ملا ہو گا
جان سے ہاتھ دھو چکا ہو گا
عشق میں تیرے ہم جو کچھ دیکھا
نہ کسی نے کبھی سنا ہو گا
آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا
دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہو گا
تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو
یہ تو کہنے ہی کی باتیں ہیں کہاں سنتے ہو
چاہ کا ذکر تمہاری میں کیا کس آگے
کون کہتا ہے کہو کس کی زباں سنتے ہو
کشش عشق ہی لائی ہے تمہیں یاں ورنہ
آپ سے تھا نہ مجھے یہ تو گماں سنتے ہو
دور سے بات خوش نہیں آتی
یوں ملاقات خوش نہیں آتی
تجھ بِن اے ماہ رُو کبھی مجھ کو
چاندنی رات خوش نہیں آتی
جائے بوسہ کے گالیاں دیجے
یہ عنایات خوش نہیں آتی