Monday, 11 January 2021

تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو

 تم کو کہتے ہیں کہ عاشق کی فغاں سنتے ہو

یہ تو کہنے ہی کی باتیں ہیں کہاں سنتے ہو 

چاہ کا ذکر تمہاری میں کیا کس آگے 

کون کہتا ہے کہو کس کی زباں سنتے ہو 

کشش عشق ہی لائی ہے تمہیں یاں ورنہ 

آپ سے تھا نہ مجھے یہ تو گماں سنتے ہو 

ایک شب میرا بھی افسانۂ جاں سوز سنو 

قصے اوروں کے تو اے جانِ جہاں سنتے ہو 

وہ گل اندام جو آیا تو خجالت سے تمام 

زرد ہو جاؤ گے اے لالہ رخاں سنتے ہو 

ایک کے لاکھ سناؤں گا خبردار رہو 

اس طرف آئی اگر طبع رواں سنتے ہو 

آج کیا ہے کہو کیوں ایسے خفا بیٹھے ہو 

اپنی کہتے ہو نہ میری ہی میاں سنتے ہو 

کون ہے کس سے کروں دردِ دل اپنا اظہار 

چاہتا ہوں کہ سنو تم تو کہاں سنتے ہو 

یہ وہی شوخ ہے آتا ہے جو بیدار کے ساتھ 

جس کو غارت گر دل آفتِ جاں سنتے ہو 


میر محمد بیدار

No comments:

Post a Comment