Monday, 11 January 2021

دلوں کے آئنہ دھندلے پڑے ہیں

 دلوں کے آئینہ دھندلے پڑے ہیں

بہت کم لوگ خود کو جانتے ہیں

خزاں کے خشک پتوں کو نہ چھیڑو

تھکے ماندے مسافر سو رہے ہیں

ہماری غمگساری میں شب غم

چراغ🪔 آہستہ آہستہ جلے ہیں

نشاں پاتا نہیں کوئی کسی کا

سبھی اک دوسرے کو ڈھونڈتے ہیں

بس اک موج ہوائے غم ہے کافی

ارادے کیا گھروندے ریت کے ہیں

خدا دل💖 کا نگر آباد رکھے

ہزاروں طرح کے غم پل رہے ہیں

شبِ مہتاب یادیں گل رُخوں کی

سفینے موج خوں میں تیرتے ہیں


فضیل جعفری

No comments:

Post a Comment