جفاؤں کی نمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں
ستم گر کی ستائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں
مجھے تنہائی پڑھنی ہے مگر خاموش لہجے میں
یہی محفل کی خواہش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں
مِرے افکار پہ بولے بڑی تہذیب سے زاہد
مقدر آزمائش ہے، کسی سے کچھ نہیں بولیں
جفاؤں کی نمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں
ستم گر کی ستائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں
مجھے تنہائی پڑھنی ہے مگر خاموش لہجے میں
یہی محفل کی خواہش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں
مِرے افکار پہ بولے بڑی تہذیب سے زاہد
مقدر آزمائش ہے، کسی سے کچھ نہیں بولیں
آزردہ نگاہوں پہ یہ منظر نہیں اترا
صحرائے تصور میں کوئی گھر نہیں اترا
جب مل گیا عرفانِ نظر مجھ کو خدا سے
پھر کیوں مِرے احساس سے محشر نہیں اترا
دیکھا نہیں جس نے مِرے طوفاں کو سکوں میں
وہ شخص مِری روح کے اندر نہیں اترا
خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے
کاش اب کہ اختیار سنورتا دکھائی دے
صیاد کے ہنر کی ستائش نہیں ہو اب
جس کو ہے پر نصیب وہ اڑتا دکھائی دے
اتنی نہ انتشار کی حدت ہو رو برو
انساں غم حیات میں جلتا دکھائی دے
یہ کم نہیں کے وہی شام کا ستارہ ہے
جسے فضیلت تنہائی نے ابھارا ہے
کہیں سراغ نہیں ہے کسی بھی قاتل کا
لہولہان مگر شہر کا نظارہ ہے
میں جا رہا ہوں مکمل وجود پانے کو
مجھے بھی صورتِ امکاں نے اب پکارا ہے
وفا خلوص کا سنگار روز کرتی ہے
یوں دھیرے دھیرے مری زندگی سنورتی ہے
کوئی حیات زمانہ کو ہے عزیز بہت
کوئی حیات ہے کہ روز روز مرتی ہے
ترے چراغ کا فانوس خود ہوا ہے اور
مرے چراغ سے ظالم ہوا گزرتی ہے
گزرے ہوئے لمحات کو اب ڈھونڈ رہا ہوں
میں اپنے مقدر میں غضب ڈھونڈ رہا ہوں
سجدے کا سبب جان کے شیریں ہے پریشاں
فرہاد نے کہہ ڈالا کے رب ڈھونڈ رہا ہوں
وہ ہیں کہ نبھانے بھی لگے وصل کے آداب
میں ہوں کہ تغافل کا سبب ڈھونڈ رہا ہوں
بس رنج کی ہے داستاں عنوان ہزاروں
جینے کے لیے مر گئے انسان ہزاروں
وہ جس نے مری روح کو درد آشنا رکھا
ہیں مجھ پہ اسی زخم کے احسان ہزاروں
جس خاک سے کہتے ہو وفا ہم نہیں کرتے
سوئے ہیں اسی خاک میں سلطان ہزاروں