Showing posts with label اظہر ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label اظہر ہاشمی. Show all posts

Tuesday, 18 October 2022

جفاؤں کی نمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں

 جفاؤں کی نمائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 

ستم گر کی ستائش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 

مجھے تنہائی پڑھنی ہے مگر خاموش لہجے میں 

یہی محفل کی خواہش ہے کسی سے کچھ نہیں بولیں 

مِرے افکار پہ بولے بڑی تہذیب سے زاہد 

مقدر آزمائش ہے، کسی سے کچھ نہیں بولیں 

Tuesday, 20 July 2021

آزردہ نگاہوں پہ یہ منظر نہیں اترا

 آزردہ نگاہوں پہ یہ منظر نہیں اترا

صحرائے تصور میں کوئی گھر نہیں اترا

جب مل گیا عرفانِ نظر مجھ کو خدا سے

پھر کیوں مِرے احساس سے محشر نہیں اترا

دیکھا نہیں جس نے مِرے طوفاں کو سکوں میں

وہ شخص مِری روح کے اندر نہیں اترا

Monday, 14 December 2020

خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے

 خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے 

کاش اب کہ اختیار سنورتا دکھائی دے 

صیاد کے ہنر کی ستائش نہیں ہو اب 

جس کو ہے پر نصیب وہ اڑتا دکھائی دے 

اتنی نہ انتشار کی حدت ہو رو برو 

انساں غم حیات میں جلتا دکھائی دے 

Sunday, 13 December 2020

یہ کم نہیں کے وہی شام کا ستارہ ہے

یہ کم نہیں کے وہی شام کا ستارہ ہے

جسے فضیلت تنہائی نے ابھارا ہے

کہیں سراغ نہیں ہے کسی بھی قاتل کا

لہولہان مگر شہر کا نظارہ ہے

میں جا رہا ہوں مکمل وجود پانے کو

مجھے بھی صورتِ امکاں نے اب پکارا ہے

Saturday, 12 December 2020

وفا خلوص کا سنگار روز کرتی ہے

 وفا خلوص کا سنگار روز کرتی ہے

یوں دھیرے دھیرے مری زندگی سنورتی ہے

کوئی حیات زمانہ کو ہے عزیز بہت

کوئی حیات ہے کہ روز روز مرتی ہے

ترے چراغ کا فانوس خود ہوا ہے اور

مرے چراغ سے ظالم ہوا گزرتی ہے

Tuesday, 8 December 2020

گزرے ہوئے لمحات کو اب ڈھونڈ رہا ہوں

 گزرے ہوئے لمحات کو اب ڈھونڈ رہا ہوں

میں اپنے مقدر میں غضب ڈھونڈ رہا ہوں

سجدے کا سبب جان کے شیریں ہے پریشاں

فرہاد نے کہہ ڈالا کے رب ڈھونڈ رہا ہوں

وہ ہیں کہ نبھانے بھی لگے وصل کے آداب

میں ہوں کہ تغافل کا سبب ڈھونڈ رہا ہوں

بس رنج کی ہے داستاں عنوان ہزاروں

 بس رنج کی ہے داستاں عنوان ہزاروں

جینے کے لیے مر گئے انسان ہزاروں

وہ جس نے مری روح کو درد آشنا رکھا

ہیں مجھ پہ اسی زخم کے احسان ہزاروں

جس خاک سے کہتے ہو وفا ہم نہیں کرتے

سوئے ہیں اسی خاک میں سلطان ہزاروں