Tuesday, 8 December 2020

گزرے ہوئے لمحات کو اب ڈھونڈ رہا ہوں

 گزرے ہوئے لمحات کو اب ڈھونڈ رہا ہوں

میں اپنے مقدر میں غضب ڈھونڈ رہا ہوں

سجدے کا سبب جان کے شیریں ہے پریشاں

فرہاد نے کہہ ڈالا کے رب ڈھونڈ رہا ہوں

وہ ہیں کہ نبھانے بھی لگے وصل کے آداب

میں ہوں کہ تغافل کا سبب ڈھونڈ رہا ہوں

ظالم مجھے پھر سیکڑوں غم دینے لگا ہے

میں زندگی میں ایک خوشی جب ڈھونڈ رہا ہوں

کیوں مجھ کو سخنور کہو پاگل نہ کہو تم

ہر بزم میں جو بزم ادب ڈھونڈ رہا ہوں

آزردہ تھی غربت میں مرے دوست کی ہجرت

کچھ میں بھی پریشاں ہوں عرب ڈھونڈ رہا ہوں

بس ایک پتہ ہی تو مجھے یاد ہے اظہرؔ

دیوانہ ہے کیا تجھ کو میں کب ڈھونڈ رہا ہوں


اظہر ہاشمی

No comments:

Post a Comment