Tuesday, 8 December 2020

نہ کر شمار کہ ہر شے گنی نہیں جاتی

 نہ کر شمار کہ ہر شے گنی نہیں جاتی

یہ زندگی ہے حسابوں سے جی نہیں جاتی

یہ نرم لہجہ یہ رنگینئ بیاں یہ خلوص

مگر لڑائی تو ایسے لڑی نہیں جاتی

سلگتے دن میں تھی باہر بدن میں شب کو رہی

بچھڑ کے مجھ سے بس اک تیرگی نہیں جاتی

نقاب ڈال دو جلتے اداس سورج پر

اندھیرے جسم میں کیوں روشنی نہیں جاتی

ہر ایک راہ سلگتے ہوئے مناظر ہیں

مگر یہ بات کسی سے کہی نہیں جاتی

مچلتے پانی میں اونچائی کی تلاش فضول

پہاڑ پر تو کوئی بھی ندی نہیں جاتی


فضل تابش

No comments:

Post a Comment