Tuesday, 8 December 2020

آگ کو پانیوں سے خطرہ ہے

آگ کو پانیوں سے خطرہ ہے

تیری تابانیوں سے خطرہ ہے

جو سمجھتے ہیں عقلِ کل خود کو

ان کی نادانیوں سے خطرہ ہے

کچھ بھی کہتی نہیں ہے یہ بارِش

مجھ کو طغیانیوں سے خطرہ ہے

مل ہی جاتا ہے مشکلوں کا حل

دل کو آسانیوں سے خطرہ ہے

گر جو منصف نے باندھ لی پٹی

حکم کی رانیوں سے خطرہ ہے

مجھ کو خطرہ نہیں ہے آنکھوں سے

آنکھ کے پانیوں سے خطرہ ہے

تجھ کو رخصت کیا تو گھر نہ گئی

گھر کی ویرانیوں سے خطرہ ہے


دلشاد نسیم

No comments:

Post a Comment