آگ کو پانیوں سے خطرہ ہے
تیری تابانیوں سے خطرہ ہے
جو سمجھتے ہیں عقلِ کل خود کو
ان کی نادانیوں سے خطرہ ہے
کچھ بھی کہتی نہیں ہے یہ بارِش
مجھ کو طغیانیوں سے خطرہ ہے
مل ہی جاتا ہے مشکلوں کا حل
دل کو آسانیوں سے خطرہ ہے
گر جو منصف نے باندھ لی پٹی
حکم کی رانیوں سے خطرہ ہے
مجھ کو خطرہ نہیں ہے آنکھوں سے
آنکھ کے پانیوں سے خطرہ ہے
تجھ کو رخصت کیا تو گھر نہ گئی
گھر کی ویرانیوں سے خطرہ ہے
دلشاد نسیم
No comments:
Post a Comment