Tuesday, 8 December 2020

خواب سرا سے ہوتا ہوا تعبیر نگر تک آیا ہوں

 خواب سرا سے ہوتا ہوا تعبیر نگر تک آیا ہوں

ہیرے موتی اور جواہر دیکھو کیا کیا لایا ہوں

نشے سے معمور سخن جو مدہوشی کا باعث ہے

اس کی نشیلی قربت سے یہ رنگ چرا کر لایا ہوں

رہتا ہے تعمیر میں پنہاں اک تخریب کا پہلو بھی

وصل میں کوئل کی یہ کُو کُو سن کے بہت گھبرایا ہوں

ابرِ بہاراں کوئی آ کر میری دھوپ کو ختم کرے

ورنہ میں اک جلتا صحرا بِن پانی بِن سایا ہوں

رنگ ہوائیں خوشبو لہریں آ کر مجھ کو چومتی ہیں

یثربِ دل میں دیکھوں دائم آپ کا میں ہمسایا ہوں

میرے ہاتھ کی فنکاری نے رنگ دئیے ہیں دنیا کو

کُن کی ایک مجسم صورت دنیا میں ٹھہرایا ہوں

ہوا سحاؔب اندھیرا ہرسُو، روشنی اس کے دم سے تھی

اب تو میں اک خالی گھر کا دیپک بجھا بجھایا ہوں


اسلم سحاب ہاشمی

No comments:

Post a Comment