خواب سرا سے ہوتا ہوا تعبیر نگر تک آیا ہوں
ہیرے موتی اور جواہر دیکھو کیا کیا لایا ہوں
نشے سے معمور سخن جو مدہوشی کا باعث ہے
اس کی نشیلی قربت سے یہ رنگ چرا کر لایا ہوں
رہتا ہے تعمیر میں پنہاں اک تخریب کا پہلو بھی
وصل میں کوئل کی یہ کُو کُو سن کے بہت گھبرایا ہوں
ابرِ بہاراں کوئی آ کر میری دھوپ کو ختم کرے
ورنہ میں اک جلتا صحرا بِن پانی بِن سایا ہوں
رنگ ہوائیں خوشبو لہریں آ کر مجھ کو چومتی ہیں
یثربِ دل میں دیکھوں دائم آپ کا میں ہمسایا ہوں
میرے ہاتھ کی فنکاری نے رنگ دئیے ہیں دنیا کو
کُن کی ایک مجسم صورت دنیا میں ٹھہرایا ہوں
ہوا سحاؔب اندھیرا ہرسُو، روشنی اس کے دم سے تھی
اب تو میں اک خالی گھر کا دیپک بجھا بجھایا ہوں
اسلم سحاب ہاشمی
No comments:
Post a Comment