یہ اور بات ہے بدنامیوں کے گھر میں رہا
یہی بہت ہے کہ میں آپ کی نظر میں رہا
نہ راستوں کا پتہ تھا، نہ منزلیں معلوم
سفر تمام ہوا، اور میں سفر میں رہا
کسی کی زلف کا سایہ کہاں نصیب ہوا
تمام عمر سُلگتی سی دوپہر میں رہا
یہ اور بات ہے بدنامیوں کے گھر میں رہا
یہی بہت ہے کہ میں آپ کی نظر میں رہا
نہ راستوں کا پتہ تھا، نہ منزلیں معلوم
سفر تمام ہوا، اور میں سفر میں رہا
کسی کی زلف کا سایہ کہاں نصیب ہوا
تمام عمر سُلگتی سی دوپہر میں رہا
نہ کوئی سایہ نہ کوئی مکان رکھتے ہیں
ہم اپنے سر پہ کھلا آسمان رکھتے ہیں
ہر ایک بات پہ خاموش رہ نہیں سکتے
عزیزو ہم بھی تو منہ میں زبان رکھتے ہیں
بزرگ دے کے گئے تھے جسے وراثت میں
وہی مزاج، وہی آن بان رکھتے ہیں
خط اس نے زمانہ ہوا لکھا بھی نہیں ہے
وہ روٹھ گیا مجھ سے ہو ایسا بھی نہیں ہے
کیوں تلخ بتایا ہے اسے حضرت واعظ؟
جس مے کو کبھی آپ نے چکھا بھی نہیں ہے
اچھا ہوا فنکاروں نے دوکان بڑھا دی
اس شہر میں اب دیدۂ بینا بھی نہیں ہے
ہر ایک دور میں حق کے نقیب ہیں ہم لوگ
قسم خدا کی بڑے خوش نصیب ہیں ہم لوگ
یہ اور بات، ہم اس کو رفیق سمجھے تھے
یہ اور بات، وہ سمجھا رقیب ہیں ہم لوگ
زبان کاٹ نہ لے شب کا شہریار کہیں
خطا یہ ہے کہ سحر کے خطیب ہیں ہم لوگ
پڑھا تھا جس کو مقدس کتاب کی صورت
حرام ہو گیا ہم پر شراب کی صورت
خزاں میں جن کو چنا تھا وہ ایک اک تنکا
بکھر گیا ہے بہاروں میں خواب کی صورت
ہمارے سر کی ہے معراج نوک نیزہ پر
بلندیاں ہی رہیں آفتاب کی صورت