Showing posts with label ناظم جعفری. Show all posts
Showing posts with label ناظم جعفری. Show all posts

Saturday, 24 September 2022

یہ اور بات ہے بدنامیوں کے گھر میں رہا

 یہ اور بات ہے بدنامیوں کے گھر میں رہا

یہی بہت ہے کہ میں آپ کی نظر میں رہا

نہ راستوں کا پتہ تھا، نہ منزلیں معلوم

سفر تمام ہوا، اور میں سفر میں رہا

کسی کی زلف کا سایہ کہاں نصیب ہوا

تمام عمر سُلگتی سی دوپہر میں رہا

Saturday, 10 September 2022

نہ کوئی سایہ نہ کوئی مکان رکھتے ہیں

 نہ کوئی سایہ نہ کوئی مکان رکھتے ہیں

ہم اپنے سر پہ کھلا آسمان رکھتے ہیں

ہر ایک بات پہ خاموش رہ نہیں سکتے

عزیزو ہم بھی تو منہ میں زبان رکھتے ہیں

بزرگ دے کے گئے تھے جسے وراثت میں

وہی مزاج، وہی آن بان رکھتے ہیں

Saturday, 27 August 2022

خط اس نے زمانہ ہوا لکھا بھی نہیں ہے

 خط اس نے زمانہ ہوا لکھا بھی نہیں ہے

وہ روٹھ گیا مجھ سے ہو ایسا بھی نہیں ہے

کیوں تلخ بتایا ہے اسے حضرت واعظ؟

جس مے کو کبھی آپ نے چکھا بھی نہیں ہے

اچھا ہوا فنکاروں نے دوکان بڑھا دی

اس شہر میں اب دیدۂ بینا بھی نہیں ہے

Friday, 26 August 2022

ہر ایک دور میں حق کے نقیب ہیں ہم لوگ

 ہر ایک دور میں حق کے نقیب ہیں ہم لوگ

قسم خدا کی بڑے خوش نصیب ہیں ہم لوگ

یہ اور بات، ہم اس کو رفیق سمجھے تھے

یہ اور بات، وہ سمجھا رقیب ہیں ہم لوگ

زبان کاٹ نہ لے شب کا شہریار کہیں

خطا یہ ہے کہ سحر کے خطیب ہیں ہم لوگ

Wednesday, 26 January 2022

پڑھا تھا جس کو مقدس کتاب کی صورت

 پڑھا تھا جس کو مقدس کتاب کی صورت

حرام ہو گیا ہم پر شراب کی صورت

خزاں میں جن کو چنا تھا وہ ایک اک تنکا

بکھر گیا ہے بہاروں میں خواب کی صورت

ہمارے سر کی ہے معراج نوک نیزہ پر

بلندیاں ہی رہیں آفتاب کی صورت