نہ کوئی سایہ نہ کوئی مکان رکھتے ہیں
ہم اپنے سر پہ کھلا آسمان رکھتے ہیں
ہر ایک بات پہ خاموش رہ نہیں سکتے
عزیزو ہم بھی تو منہ میں زبان رکھتے ہیں
بزرگ دے کے گئے تھے جسے وراثت میں
وہی مزاج، وہی آن بان رکھتے ہیں
زمانہ سیکھ لے ہم سے فن سپہ گیری
ہنسی کے تیر لبوں کی کمان رکھتے ہیں
شکست پائی ہے جس سے ہر ایک دریا نے
لبوں پہ پیاس کی ایسی چٹان رکھتے ہیں
بلندیاں ہیں عبارت انہیں پرندوں سے
جو آسمان سے اونچی اڑان رکھتے ہیں
بس اتنی بات پہ خائف ہیں گلستاں والے
قفس نصیب بڑا خاندان رکھتے ہیں
ناظم جعفری
No comments:
Post a Comment