Saturday, 10 September 2022

نہ کوئی سایہ نہ کوئی مکان رکھتے ہیں

 نہ کوئی سایہ نہ کوئی مکان رکھتے ہیں

ہم اپنے سر پہ کھلا آسمان رکھتے ہیں

ہر ایک بات پہ خاموش رہ نہیں سکتے

عزیزو ہم بھی تو منہ میں زبان رکھتے ہیں

بزرگ دے کے گئے تھے جسے وراثت میں

وہی مزاج، وہی آن بان رکھتے ہیں

زمانہ سیکھ لے ہم سے فن سپہ گیری

ہنسی کے تیر لبوں کی کمان رکھتے ہیں

شکست پائی ہے جس سے ہر ایک دریا نے

لبوں پہ پیاس کی ایسی چٹان رکھتے ہیں

بلندیاں ہیں عبارت انہیں پرندوں سے

جو آسمان سے اونچی اڑان رکھتے ہیں

بس اتنی بات پہ خائف ہیں گلستاں والے

قفس نصیب بڑا خاندان رکھتے ہیں


ناظم جعفری

No comments:

Post a Comment