Saturday, 10 September 2022

آج تو کچھ نہیں ملا مجھ کو

 آج تو کچھ نہیں ملا مجھ کو

دیکھیے کل ملے گا کیا مجھ کو

چند روزہ جہان میں رہ کر

کام کرنا ہے دیر پا مجھ کو

موت سے ڈرنے والے ڈرتے رہیں

تنگ کرتی نہیں قضا مجھ کو

ڈھونڈھنے والا مجھ کو پا نہ سکا

پانے والے نے کھو دیا مجھ کو

دین و دنیا کی فکر لاحق ہے

اور تو کچھ نہیں ہُوا مجھ کو

فیصلے ہیں سبھی خلاف میرے

جن پہ کرنا ہے فیصلہ مجھ کو

کچھ عطا کر نہ کر، تیری مرضی

اپنے در سے تو مت اٹھا مجھ کو

کون ویسے بھی پوچھتا ہے مجھے

تجھ کو کیا تُو بھی بُھول جا مجھ کو

اب نہیں احتمالِ سود و زیاں

جو بھی ہونا تھا ہو چکا مجھ کو

میں وہ دریوزہ گر نہیں مسعود

تُو نے سمجھا ہوا ہے کیا مجھ کو 


مسعود قاضی

No comments:

Post a Comment