آج تو کچھ نہیں ملا مجھ کو
دیکھیے کل ملے گا کیا مجھ کو
چند روزہ جہان میں رہ کر
کام کرنا ہے دیر پا مجھ کو
موت سے ڈرنے والے ڈرتے رہیں
تنگ کرتی نہیں قضا مجھ کو
ڈھونڈھنے والا مجھ کو پا نہ سکا
پانے والے نے کھو دیا مجھ کو
دین و دنیا کی فکر لاحق ہے
اور تو کچھ نہیں ہُوا مجھ کو
فیصلے ہیں سبھی خلاف میرے
جن پہ کرنا ہے فیصلہ مجھ کو
کچھ عطا کر نہ کر، تیری مرضی
اپنے در سے تو مت اٹھا مجھ کو
کون ویسے بھی پوچھتا ہے مجھے
تجھ کو کیا تُو بھی بُھول جا مجھ کو
اب نہیں احتمالِ سود و زیاں
جو بھی ہونا تھا ہو چکا مجھ کو
میں وہ دریوزہ گر نہیں مسعود
تُو نے سمجھا ہوا ہے کیا مجھ کو
مسعود قاضی
No comments:
Post a Comment