کسی تاریک اندھیرے سے اجالا لے کر
آ گیا دیس سے میں دیس نکالا لے کر
مجھ کو محفل سے نکالے گا بھلا وہ کیسے
میں تو آیا ہوں یہاں تیرا حوالہ لے کر
کسی دیوار میں بھی دیکھا نہیں دروازہ
بڑا مایوس ہوا ہاتھ میں تالا لے کر
کسی تاریک اندھیرے سے اجالا لے کر
آ گیا دیس سے میں دیس نکالا لے کر
مجھ کو محفل سے نکالے گا بھلا وہ کیسے
میں تو آیا ہوں یہاں تیرا حوالہ لے کر
کسی دیوار میں بھی دیکھا نہیں دروازہ
بڑا مایوس ہوا ہاتھ میں تالا لے کر
جتنے پتھر ہیں سبھی مجھ میں لگاتے جاؤ
مجھے دیوار کی مانند اُٹھاتے جاؤ
میرے چہرے کو پڑھو ایک کہانی کی طرح
اور جذبات کی تصویر بناتے جاؤ
یا مقدر میں مِرے اپنا اضافہ کر دو
یا مِرے ہاتھوں کی تحریر مٹاتے جاؤ
میرے سفر کو میرے راستوں نے بانٹ لیا
میرا خیال بھی کچھ دوستوں نے بانٹ لیا
میں سنگ میل سرِ رہگزار منزل کا
قدم قدم پہ مجھے فاصلوں نے بانٹ لیا
یہ شیر مارا تو میں نے تھا آپ نے جنگل میں
مگر یہ کیا کیا کہ اسے ہرنیوں نے بانٹ لیا
وہ بظاہر جو میرے ساتھ رہا کرتا تھا
درمیاں فاصلہ کوسوں کا رکھا کرتا تھا
اچھا لگتا تھا اسے مجھ کو بُلانا شاید
وہ بہانے سے میرا نام لِیا کرتا تھا
چکھ لیا اس نے زمانے کی ہوا کو آخر
جو محبت کو عبادت بھی کہا کرتا تھا
مجھے دیوار میں پتھر کی طرح رکھا گیا
اور تجھے سِیپ میں گوہر کی طرح رکھا گیا
حکمران وہ رہا سالار کی صورت میرا
اور مِری سوچ کو لشکر کی طرح رکھا گیا
پارسا بھی رِند بھی کرنے لگے میرا طواف
جب بھی میخانے میں ساغر کی طرح طرح رکھا گیا