Showing posts with label رحمان مراد. Show all posts
Showing posts with label رحمان مراد. Show all posts

Sunday, 10 March 2024

کسی تاریک اندھیرے سے اجالا لے کر

 کسی تاریک اندھیرے سے اجالا لے کر

آ گیا دیس سے میں دیس نکالا لے کر

مجھ کو محفل سے نکالے گا بھلا وہ کیسے

میں تو آیا ہوں یہاں تیرا حوالہ لے کر

کسی دیوار میں بھی دیکھا نہیں دروازہ

بڑا مایوس ہوا ہاتھ میں تالا لے کر

Friday, 16 February 2024

جتنے پتھر ہیں سبھی مجھ میں لگاتے جاؤ

 جتنے پتھر ہیں سبھی مجھ میں لگاتے جاؤ

مجھے دیوار کی مانند اُٹھاتے جاؤ

میرے چہرے کو پڑھو ایک کہانی کی طرح

اور جذبات کی تصویر بناتے جاؤ

یا مقدر میں مِرے اپنا اضافہ کر دو

یا مِرے ہاتھوں کی تحریر مٹاتے جاؤ

Monday, 1 January 2024

میرے سفر کو میرے راستوں نے بانٹ لیا

 میرے سفر کو میرے راستوں نے بانٹ لیا

میرا خیال بھی کچھ دوستوں نے بانٹ لیا

میں سنگ میل سرِ رہگزار منزل کا

قدم قدم پہ مجھے فاصلوں نے بانٹ لیا

یہ شیر مارا تو میں نے تھا آپ نے جنگل میں

مگر یہ کیا کیا کہ اسے ہرنیوں نے بانٹ لیا

Friday, 30 December 2022

وہ بظاہر جو میرے ساتھ رہا کرتا تھا

وہ بظاہر جو میرے ساتھ رہا کرتا تھا

درمیاں فاصلہ کوسوں کا رکھا کرتا تھا

اچھا لگتا تھا اسے مجھ کو بُلانا شاید

وہ بہانے سے میرا نام لِیا کرتا تھا

چکھ لیا اس نے زمانے کی ہوا کو آخر

جو محبت کو عبادت بھی کہا کرتا تھا

Monday, 5 December 2022

مجھے دیوار میں پتھر کی طرح رکھا گیا

مجھے دیوار میں پتھر کی طرح رکھا گیا

اور تجھے سِیپ میں گوہر کی طرح رکھا گیا

حکمران وہ رہا سالار کی صورت میرا

اور مِری سوچ کو لشکر کی طرح رکھا گیا

پارسا بھی رِند بھی کرنے لگے میرا طواف

جب بھی میخانے میں ساغر کی طرح طرح رکھا گیا