Showing posts with label عرشی بھوپالی. Show all posts
Showing posts with label عرشی بھوپالی. Show all posts

Thursday, 2 December 2021

فلسفی کس لیے الزام فنا دیتا ہے

 فلسفی کس لیے الزام فنا دیتا ہے

لفظ کُن خود مِری ہستی کا پتہ دیتا ہے

ہو گیا ترکِ مراسم کو زمانہ، لیکن

آج تک دل تِری نظروں کو دعا دیتا ہے

تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں سے دوا کے بدلے

چارہ گر آج نہ جانے مجھے کیا دیتا ہے

Saturday, 13 November 2021

درد کے سانچے میں ڈھل کر رہ گئی

 درد کے سانچے میں ڈھل کر رہ گئی

زندگی کروٹ بدل کر رہ گئی

وقتِ نظارہ،۔ نگاہِ باریاب

ان کے جلووں میں مچل کر رہ گئی

آنکھ میں آنسو مچل کر رہ گئے

موج دریا میں اچھل کر رہ گئی

Monday, 8 November 2021

تمام حسن جہاں کا جواب ہو کے رہا

 تمام حسنِ جہاں کا جواب ہو کے رہا

جو درد دل سے اٹھا آفتاب ہو کے رہا

وہ بارگاہِ جنوں ہے نصیبِ عشقِ وفا

یہ دل یہ شوقِ نظر باریاب ہو کے رہا

وہی سفر ہے وہی رسمِ آبلہ پائی

یقینِ راہ مِرا کامیاب ہو کے رہا

Sunday, 7 November 2021

آغاز عاشقی کا اللہ رے زمانہ

 آغاز عاشقی کا اللہ رے زمانہ

ہر بات بہکی بہکی ہر گام والہانہ

وہ سجدہ ہائے پیہم وہ ان کا آستانہ

اے کاش لوٹ آئے گزرا ہوا زمانہ

کونین کی توجہ اس بے رخی پہ صدقے

ہونٹوں پہ ہے تبسم، تیور مخالفانہ

Sunday, 9 May 2021

متاع شوق تو ہے درد روزگار تو ہے

 متاعِ شوق تو ہے دردِ روزگار تو ہے

اگر بہار نہیں عشرتِ بہار تو ہے

ادائے چاکِ گریباں سے با خبر نہ سہی

جنونِ شوق کو فردا کا اعتبار تو ہے

ترس رہے ہیں دل و جاں جو رنگ و بُو کیلئے

مِرے نصیب میں اک دشت انتظار تو ہے

Thursday, 19 November 2020

نگاہ شوق سے کب تک مقابلہ کرتے

 نگاہِ شوق سے کب تک مقابلہ کرتے

وہ التفات نہ کرتے تو اور کیا کرتے

یہ رسمِ ترکِ محبت بھی ہم ادا کرتے

تیرے بغیر مگر، زندگی کو کیا کرتے

غرورِ حسن کو مانوسِ التجا کرتے

وہ ہم ہیں کہ جو خودداریاں فنا کرتے