فلسفی کس لیے الزام فنا دیتا ہے
لفظ کُن خود مِری ہستی کا پتہ دیتا ہے
ہو گیا ترکِ مراسم کو زمانہ، لیکن
آج تک دل تِری نظروں کو دعا دیتا ہے
تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں سے دوا کے بدلے
چارہ گر آج نہ جانے مجھے کیا دیتا ہے
فلسفی کس لیے الزام فنا دیتا ہے
لفظ کُن خود مِری ہستی کا پتہ دیتا ہے
ہو گیا ترکِ مراسم کو زمانہ، لیکن
آج تک دل تِری نظروں کو دعا دیتا ہے
تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں سے دوا کے بدلے
چارہ گر آج نہ جانے مجھے کیا دیتا ہے
درد کے سانچے میں ڈھل کر رہ گئی
زندگی کروٹ بدل کر رہ گئی
وقتِ نظارہ،۔ نگاہِ باریاب
ان کے جلووں میں مچل کر رہ گئی
آنکھ میں آنسو مچل کر رہ گئے
موج دریا میں اچھل کر رہ گئی
تمام حسنِ جہاں کا جواب ہو کے رہا
جو درد دل سے اٹھا آفتاب ہو کے رہا
وہ بارگاہِ جنوں ہے نصیبِ عشقِ وفا
یہ دل یہ شوقِ نظر باریاب ہو کے رہا
وہی سفر ہے وہی رسمِ آبلہ پائی
یقینِ راہ مِرا کامیاب ہو کے رہا
آغاز عاشقی کا اللہ رے زمانہ
ہر بات بہکی بہکی ہر گام والہانہ
وہ سجدہ ہائے پیہم وہ ان کا آستانہ
اے کاش لوٹ آئے گزرا ہوا زمانہ
کونین کی توجہ اس بے رخی پہ صدقے
ہونٹوں پہ ہے تبسم، تیور مخالفانہ
متاعِ شوق تو ہے دردِ روزگار تو ہے
اگر بہار نہیں عشرتِ بہار تو ہے
ادائے چاکِ گریباں سے با خبر نہ سہی
جنونِ شوق کو فردا کا اعتبار تو ہے
ترس رہے ہیں دل و جاں جو رنگ و بُو کیلئے
مِرے نصیب میں اک دشت انتظار تو ہے
نگاہِ شوق سے کب تک مقابلہ کرتے
وہ التفات نہ کرتے تو اور کیا کرتے
یہ رسمِ ترکِ محبت بھی ہم ادا کرتے
تیرے بغیر مگر، زندگی کو کیا کرتے
غرورِ حسن کو مانوسِ التجا کرتے
وہ ہم ہیں کہ جو خودداریاں فنا کرتے