درد کے سانچے میں ڈھل کر رہ گئی
زندگی کروٹ بدل کر رہ گئی
وقتِ نظارہ،۔ نگاہِ باریاب
ان کے جلووں میں مچل کر رہ گئی
آنکھ میں آنسو مچل کر رہ گئے
موج دریا میں اچھل کر رہ گئی
کیا کِیا اے بلبلِ آتش نوا
آشیاں میں برق جل کر رہ گئی
ان کا غم مجھ کو ودیعت ہو گیا
ساری دنیا ہاتھ مل کر رہ گئی
عرشی بھوپالی
No comments:
Post a Comment