مکافات عمل اٹل ہے مگر
ٹوٹ ٹوٹ کر آئیں گی آفتیں چشمِ بد بیں پر
مکافاتِ عمل اٹل ہے، مگر
یومِ جزا میں شرمسار تو ہوں گے
یہ چشمِ بد بِیں، یہ جعل ساز، یہ دغاباز لوگ
میرے چشمِ پُر آب میری آہ میری سسکیاں
مکافات عمل اٹل ہے مگر
ٹوٹ ٹوٹ کر آئیں گی آفتیں چشمِ بد بیں پر
مکافاتِ عمل اٹل ہے، مگر
یومِ جزا میں شرمسار تو ہوں گے
یہ چشمِ بد بِیں، یہ جعل ساز، یہ دغاباز لوگ
میرے چشمِ پُر آب میری آہ میری سسکیاں
سنو وہ جب لوٹ کر آئے تو اس کو کہنا
شفق بہت انتظار کرتی تھی تمہارا
تم سے ملنے کو تم سے بات کرنے کو
بہت ترستی تھی وہ
سنو اسے کہنا تم بن ہر لمحہ اس کے لیے وحشت زدہ تھا
اسے آس تھی، اسے امید تھی
میں بہت حساس ہوں
ہر بات دل پر لے لیتی ہوں
میں اپنے سے جوڑے ہر رشتے کو کھونے سے ڈرتی ہوں
اس کے باوجود بھی میں ہر بار ہر ایک کو کھو دیتی ہوں
مجھ سے کوئی بیزار ہوتا ہے
کوئی میری زندگی سے جانا چاہتا ہے
چلو آؤ کسی روز کسی شام
بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں
بکھری کہانی کو
پھر سے سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں
چلو آؤ زندگی کی کتاب کے
کچھ اوراق پلٹ کر دیکھتے ہیں
شہید کی ماں
میری ماں عظیم ماں تو پریشان نہ ہونا
تُو عام ماں نہیں ہے
تُو شہید کی ماں ہے
میری ماں عظیم ماں مجھ سے لپٹ کر رونا نہیں
کہ شہید کی مائیں رویا نہیں کرتیں