وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہے
رخ پہ اس کے نیا چہرہ سا لگا رہتا ہے
اپنے گھر میں بھی تو ہے چین سے سونا مشکل
چھت نہ گر جائے یہ کھٹکا سا لگا رہتا ہے
وہ زمیں خاک اُگائے گی عداوت کے سوا
پیار پر جس جگہ پہرہ سا لگا رہتا ہے
وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہے
رخ پہ اس کے نیا چہرہ سا لگا رہتا ہے
اپنے گھر میں بھی تو ہے چین سے سونا مشکل
چھت نہ گر جائے یہ کھٹکا سا لگا رہتا ہے
وہ زمیں خاک اُگائے گی عداوت کے سوا
پیار پر جس جگہ پہرہ سا لگا رہتا ہے
اس دشتِ ہلاکت سے گزر کون کرے گا
بے امن خرابوں میں سفر کون کرے گا
خورشید جو ڈوبیں گے ابھرنے ہی سے پہلے
اس تیرگیٔ شب کی سحر کون کرے گا
چھن جائیں سر راہ جہاں چادریں سر کی
اس ظلم کی نگری میں بسر کون کرے گا