Showing posts with label پرتو روہیلہ. Show all posts
Showing posts with label پرتو روہیلہ. Show all posts

Wednesday, 21 December 2022

وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہے

 وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہے

رخ پہ اس کے نیا چہرہ سا لگا رہتا ہے

اپنے گھر میں بھی تو ہے چین سے سونا مشکل

چھت نہ گر جائے یہ کھٹکا سا لگا رہتا ہے

وہ زمیں خاک اُگائے گی عداوت کے سوا

پیار پر جس جگہ پہرہ سا لگا رہتا ہے

Wednesday, 8 December 2021

اس دشت‌ ہلاکت سے گزر کون کرے گا

 اس دشت‌ِ ہلاکت سے گزر کون کرے گا

بے امن خرابوں میں سفر کون کرے گا

خورشید جو ڈوبیں گے ابھرنے ہی سے پہلے

اس تیرگیٔ شب کی سحر کون کرے گا

چھن جائیں سر راہ جہاں چادریں سر کی

اس ظلم کی نگری میں بسر کون کرے گا

Saturday, 15 October 2016

میں جو صحرا میں کسی پیڑ کا سایہ ہوتا

میں جو صحرا میں کسی پیڑ کا سایا ہوتا
دل زدہ کوئی گھڑی بھر کو تو ٹھہرا ہوتا
اب تو وہ شاخ بھی شاید ہی گلستاں میں ملے
کاش، اس پھول کو اس وقت ہی توڑا ہوتا 
وقت فرصت نہیں دے گا ہمیں مڑنے کی کبھی
آگے بڑھتے ہوئے ہم نے جو یہ سوچا ہوتا

اس گرمی بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھی

اس گرمئ بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھی
سچ جانیئے دکان کے اندر نہیں کچھ بھی
ہم جہدِ مسلسل سے جہاں ٹوٹ کے گر جائیں
وہ لمحہ حقیقت ہے مقدر نہیں کچھ بھی 
مجبور تجسس نے کِیا ہے ہمیں، ورنہ
اس قید کی دیوار کے باہر نہیں کچھ بھی

Thursday, 24 September 2015

ماتا ناتا؛ مرنے پر بھی ٹوٹ نہ پائے اس کا ایسا ناتا

ماتا ناتا

مرنے پر بھی ٹُوٹ نہ پائے اس کا ایسا ناتا
دھرتی اوپر سب سے اونچی پرتو اپنی ماتا
ماتا پیار کا ساگر پرتو، ماتا جوت منار
ماتا سُکھ کی پھُلواری ہے، ماتا جِیو سنوار
ماتا سُکھ کی نِیند ہے پرتوؔ، ماتا چَین کی چھاؤں
دَھرتی اوپر اِیشور ہے وہ ماتا جس کا ناؤں

آن مان؛ اپنے کنویں کا پانی پئیں ہم اپنے گھاٹ نہائیں

آن مان

اپنے کنویں کا پانی پئیں ہم اپنے گھاٹ نہائیں
اپنا جُوٹھا دُوجے کو دیں، ناں دُوجے کا کھائیں
دُوجے کے دَھن دولت اوپر رِیجھے اور للچائے
مجھ سے جوگی کا پرتوؔ وہ کیسے مِیت کہائے
وہ دن میں ناں دیکھوں اس دن مجھ کو رام اٹھا لے
میرے گھر کے کتے کو ہمسایہ روٹی ڈالے

کامنا کنڈ؛ سوچوں ہوں یہ اکتا کر جب جگ سے جی گھبرائے

کامنا کُنڈ

سوچوں ہوں یہ اُکتا کر جب جگ سے جی گھبرائے
برگد کے اِک پیڑ تلے جا بیٹھوں دھونی رمائے
بستی بستی نگری نگری گاؤُں سُرِیلے بول
پریم کی بھِکشا مانگوں لے کر مَن کا اک کشکول
کپڑے پھاڑ اُتاروں سارے تَن پہ مَل بھبھُوت
جنگل میں جا بیٹھوں جگ کا تَج کے چھُوت اچھُوت

بھولی ڈگریا؛ کس بستی میں گھر تھا میرا لوگو کیا بتلاؤں

بھولی ڈگریا

کس بستی میں گھر تھا میرا لوگو! کیا بتلاؤں
میں پرتوؔ وہ بھولا بالک بھُولا اپنا ناؤں
کس بستی سے آیا لوگو! کون سے بستی جاؤں
میں پرتوؔ وہ پردیسی بھُولا اپنا گاؤں
تِھل ٹِیلوں میں کب تک گھُوموں جَپتا تیرا ناؤں
کون سا رَستہ او، البیلی! پہونچے تیرے گاؤں

اکلاپے کی زہری ناگن جیون کو یوں چاٹے

اکلاپے کی زہری ناگن

اکلاپے کی زہری ناگن جیون کو یوں چاٹے
جیسے لہر ندی کی دِھیرے دِھیرے کنارا کاٹے
جِیون گھوڑا بھرتا جائے ہر ہر پَل فراٹے
اکلاپے کی دِیمک من کو دِھیرے دِھیرے چاٹے
کس کا ہاتھ پکڑ کر نکلوں، کیسے باہر آؤں
اکلاپے کی دلدل اندر رہ رہ دھنستا جاؤں

یادوں کا پچھیاؤ؛ آج چلا پھر لوگو ایسا یادوں کا پچھیاؤ

یادوں کا پچھیاؤ

آج چلا پھر لوگو! ایسا، یادوں کا پچھیاؤ
جی چاہے ہے آنکھیں موندے ٹھور یہیں مر جاؤ
بِسری یاد کے آنگن میں یوں گھومے تیری پرِیت
رات کو جیسے جنگل میں کوئی گائے رسِیلا گِیت
ایسی یاد آئے ہے سکھیو! بھولی بِسری جوانی
جیسے ہری ہو پُروائی میں کوئی چوٹ پرانی

سمے کی چال؛ کوئی چڑھے کوٹھے کے اوپر کوئی گرے پاتال

سمے کی چال

کوئی چڑھے کوٹھے کے اوپر کوئی گرے پاتال
ہم سے جنم کے پگلے بیٹھے دیکھیں سمے کی چال
میں سوچوں ہوں جب کھلتا ہے تاروں کا یہ کھیت
پگلے تیرے اپنے منہ پر کتنی سمے کی ریت
گونجے سمے کا سناٹا اور گہری ہووے رات
بھولی بسری یادوں کی پھر باجت ہے بارات

میری سمجھ میں مانس کی اے سیانو! بات نہ آئے

مانس

میری سمجھ میں مانس کی اے سیانو! بات نہ آئے
اپنے آپ کو دھوکے دیوے پھر مُورکھ پچھتائے
بوڑھے مارے ناری مو سے، بچوں کا ہتیائے
نام رکھاوے دین محمد، دیکھو تو انیائے
کتا اپنا بھونکنا بھولے بکری شیر ڈرائے
مانس کی ہنکار نہ جائے، مانس مر مر جائے

Friday, 28 August 2015

کارزار: نحیف چڑیا، نزار چڑیا

کارزار

نحیف چِڑیا، نزار چِڑیا
حسِیں چِڑیا، جمیل چِڑیا
کسی شکاری کا گھاؤ کھا کر نجانے کب سے سڑک کنارے پڑی ہوئی تھی
پھڑک رہی تھی
تڑپ رہی تھی
مَری نہیں تھی

دکھ تو مضمر ہی میری جان میں تھے

دکھ تو مضمر ہی میری جان میں تھے
میرے دشمن، مرے مکان میں تھے
ناخدا سے گِلہ،۔ نہ موسم سے
میرے طوفاں تو بادبان میں تھے
سب شکاری بھی مل کے کیا کرتے
شیر بیٹھے ہوئے مچان میں تھے