Wednesday, 8 December 2021

اس دشت‌ ہلاکت سے گزر کون کرے گا

 اس دشت‌ِ ہلاکت سے گزر کون کرے گا

بے امن خرابوں میں سفر کون کرے گا

خورشید جو ڈوبیں گے ابھرنے ہی سے پہلے

اس تیرگیٔ شب کی سحر کون کرے گا

چھن جائیں سر راہ جہاں چادریں سر کی

اس ظلم کی نگری میں بسر کون کرے گا

جس دور میں ہو بے ہنری وجہ سیادت

اس دور میں تشہیرِ ہنر کون کرے گا

اڑ جائیں گے جنگل کی طرف سارے پرندے

مینارۂ لرزاں پہ بسر کون کرے گا

اس خوف مسلسل میں گزر ہو گی تو کیوں کر

سولی پہ ہر اک رات بسر کون کرے گا

مژدہ مجھے جینے کا بھلا کس نے دیا تھا

مجھ کو مِرے مرنے کی خبر کون کرے گا


پرتو روہیلہ

No comments:

Post a Comment