کمان سامنے رکھی ہے، تیر غائب ہے
ہمارے عہد کے لشکر کا میر غائب ہے
کہاں صدائیں لگائے، کسے دعائیں دے
امیرِ شہر کے ڈر سے فقیر غائب ہے
چھپا کے رکھے ہیں دستار میں گُنہ ہم نے
ہمیں خبر ہے، ہمارا ضمیر غائب ہے
چمک رہی ہیں مُریدوں کے سر پہ تلواریں
جہادِ زیست کے میداں سے پیر غائب ہے
ہر ایک فیصلہ کرتا ہے بادشاہ غلط
مصاحبین بہت ہیں،۔ وزیر غائب ہے
صلاح مان کے پچھتا رہے ہیں ہم جاوید
صلاح دے کے ہمارا مشیر غائب ہے
جاوید اکرم
No comments:
Post a Comment