ہے جس کا نام عورت
دھنک رنگوں سی ہے وہ
حسیں ہیں رنگ سارے
محبت کا ستارہ
وفا کا استعارہ
سفر میں زندگی کے
ہے جس کا نام عورت
دھنک رنگوں سی ہے وہ
حسیں ہیں رنگ سارے
محبت کا ستارہ
وفا کا استعارہ
سفر میں زندگی کے
کج روی کو چھوڑ ہمدم
ڈُھونڈ غم کا توڑ ہمدم
اس سفر سے تھک چُکے ہم
لا حسِیں اب موڑ ہمدم
ہم جنہیں ہیں توڑ بیٹھے
سلسلے وہ جوڑ ہمدم
ہم لوگ کتابوں والے
بے مول سے خوابوں والے
ہے الگ ہی ہماری دُنیا
ہیں لفظ ہی ہمارے، ساری دُنیا
جذبات جب اُدھم مچاتے ہیں
الفاظ کا مے خانہ ہم سجاتے ہیں
اب دل سے مسکرانا
ہے جُوئے شِیر لانا
میں مثلِ گیت لکھ دوں
تم خود کو گُنگُنانا
اُترے جو شام گھر میں
تم بن کے دِیپ آنا
تعلق کے فسانے سب
نہیں ہوتے سہانے سب
تِری ہی جُستجو میں اب
بِتانے ہیں زمانے سب
چُھپے جو درد ہیں دل میں
تُجھی کو ہیں بتانے سب
زماں کے جو اشارے ہیں
ہمارے حق میں سارے ہیں
تِری چاہت، تِرے وعدے
خوشی کے استعارے ہیں
ہمارے دل کی محفل میں
سبھی جلوے تمہارے ہیں
تُو ہے چارہ ساز میرا
بِن تِرے ہے کون ایسا
جو دلوں کا حال جانے
کوئی یاں ایسا نہیں جو
بِن کہے فریاد سن لے
بِن بتائے حال جانے
سو یہی ہے مجھ پہ لازم