Showing posts with label مدثرہ عابی. Show all posts
Showing posts with label مدثرہ عابی. Show all posts

Thursday, 4 April 2024

ہے جس کا نام عورت

 ہے جس کا نام عورت

دھنک رنگوں سی ہے وہ

حسیں ہیں رنگ سارے

محبت کا ستارہ

وفا کا استعارہ

سفر میں زندگی کے

Friday, 29 March 2024

کج روی کو چھوڑ ہمدم

 کج روی کو چھوڑ ہمدم

ڈُھونڈ غم کا توڑ ہمدم

اس سفر سے تھک چُکے ہم

لا حسِیں اب موڑ ہمدم

ہم جنہیں ہیں توڑ بیٹھے

سلسلے وہ جوڑ ہمدم

Tuesday, 26 March 2024

ہم لوگ کتابوں والے بے مول سے خوابوں والے

 ہم لوگ کتابوں والے

بے مول سے خوابوں والے

ہے الگ ہی ہماری دُنیا

ہیں لفظ ہی ہمارے، ساری دُنیا

جذبات جب اُدھم مچاتے ہیں

الفاظ کا مے خانہ ہم سجاتے ہیں

Tuesday, 20 February 2024

اب دل سے مسکرانا

 اب دل سے مسکرانا

ہے جُوئے شِیر لانا

میں مثلِ گیت لکھ دوں

تم خود کو گُنگُنانا

اُترے جو شام گھر میں

تم بن کے دِیپ آنا

Sunday, 21 January 2024

تعلق کے فسانے سب

 تعلق کے فسانے سب

نہیں ہوتے سہانے سب

تِری ہی جُستجو میں اب

بِتانے ہیں زمانے سب

چُھپے جو درد ہیں دل میں

تُجھی کو ہیں بتانے سب

Thursday, 17 November 2022

زماں کے جو اشارے ہیں

زماں کے جو اشارے ہیں

ہمارے حق میں سارے ہیں

تِری چاہت، تِرے وعدے

خوشی کے استعارے ہیں

ہمارے دل کی محفل میں

سبھی جلوے تمہارے ہیں

Monday, 30 August 2021

تو ہے چارہ ساز میرا

تُو ہے چارہ ساز میرا


بِن تِرے ہے کون ایسا

جو دلوں کا حال جانے

کوئی یاں ایسا نہیں جو

بِن کہے فریاد سن لے

بِن بتائے حال جانے

سو یہی ہے مجھ پہ لازم