شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے
ہم بتکدوں کو کعبہ بناتے چلے گئے
دیتا ہے کون بادۂ سرجوش بے طلب؟
ان کا کرم کہ جام بڑھاتے چلے گئے
میں جلوہ جلوہ کچھ انہیں پہچانتا گیا
وہ پردہ پردہ سامنے آتے چلے گئے
وہ تابشِ جمال کہ اللہ کی پناہ
ذروں کو آفتاب بناتے چلے گئے
اہلِ وفا کی سادہ مزاجی معاف کر
نادان تھے فریب میں آتے چلے گئے
ناطق کو بزمِ غیر میں افسُردہ دیکھ کر
کچھ ہنستے کچھ نگاہ چُراتے چلے گئے
ناطق مالوی
No comments:
Post a Comment