دھوپ کو سایۂ دیوار نہیں مانتا میں
زندگی تجھ کو وفادار نہیں مانتا میں
اس سے انسان کو جینے کا ہنر آتا ہے
گردشِ وقت کو بے کار نہیں مانتا میں
جاں بچانے کے لیے قتل کیا ہو جس نے
ایسے قاتل کو گنہ گار نہیں مانتا میں
مشورہ بھی نہ کروں اپنے بزرگوں سے میاں
خود کو اتنا بھی سمجھدار نہیں مانتا میں
اس نے ہی ترکِ تعلق کی پہل کی اشرف
اس لیے خود کو خطا کار نہیں مانتا میں
ناظم اشرف بجنوری
No comments:
Post a Comment