Sunday, 6 September 2026

زندگی تجھ کو وفادار نہیں مانتا میں

 دھوپ کو سایۂ دیوار نہیں مانتا میں

زندگی تجھ کو وفادار نہیں مانتا میں

اس سے انسان کو جینے کا ہنر آتا ہے

گردشِ وقت کو بے کار نہیں مانتا میں

جاں بچانے کے لیے قتل کیا ہو جس نے

ایسے قاتل کو گنہ گار نہیں مانتا میں

مشورہ بھی نہ کروں اپنے بزرگوں سے میاں

خود کو اتنا بھی سمجھدار نہیں مانتا میں

اس نے ہی ترکِ تعلق کی پہل کی اشرف

اس لیے خود کو خطا کار نہیں مانتا میں


ناظم اشرف بجنوری

No comments:

Post a Comment