عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ارتقا کا، روشنی کا، خواب کا، تعبیر کا
دینِ احمدﷺ راستہ ہے سر بسر تعمیر کا
روشنی کی منزلیں پنہاں علومِ نو میں ہیں
ہے حصولِ علم و دانش راستہ تنویر کا
آئیے اب چاند تاروں پر کمندیں ڈال دیں
آیۂ قرآں میں ہم کو حکم ہے تسخیر کا
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ارتقا کا، روشنی کا، خواب کا، تعبیر کا
دینِ احمدﷺ راستہ ہے سر بسر تعمیر کا
روشنی کی منزلیں پنہاں علومِ نو میں ہیں
ہے حصولِ علم و دانش راستہ تنویر کا
آئیے اب چاند تاروں پر کمندیں ڈال دیں
آیۂ قرآں میں ہم کو حکم ہے تسخیر کا
چاند
چپکے چپکے رات کو تشریف جب لاتا ہے چاند
ہر طرف دھرتی پہ کیسا نور برساتا ہے چاند
پہلے دن کے چاند کو سب لوگ کہتے ہیں ہلال
چودھویں تاریخ ہو تو بدر کہلاتا ہے چاند
پر سکوں ماحول تارے کہکشاں ٹھنڈی ہوا
رات کی محفل میں اکثر رقص فرماتا ہے چاند
نمایاں جب وہ اپنے ذہن کی تصویر کرتا ہے
ہر اک اہلِ محبت کو بہت دل گیر کرتا ہے
وہ کیوں مسرور ہوتا ہے ہمارا خون بہنے سے
سر حق کس لیے ظالم تہِ شمشیر کرتا ہے
وفا کا نام لیتا ہے وفا نا آشنا ہو کر
وہ خود کو انتہائی پارسا تعبیر کرتا ہے
وسوسے دل میں نہ رکھ، خوف رسن لے کے نہ چل
عزمِ منزل ہے تو، ہمراہ تھکن لے کے نہ چل
راہِ منزل میں بہر حال تبسم فرما
ہر قدم دُکھ سہی، ماتھے پہ شکن لے کے نہ چل
نُور ہی نُور سے وابستہ اگر رہنا ہے
سر پہ سورج کو اُٹھا، صرف کرن لے کے نہ چل
باغباں جشن بہاراں نہیں ہونے دیتے
دیپ الفت کے فروزاں نہیں ہونے دیتے
زہر الفت کا پلاتے ہیں بڑے فخر کے ساتھ
آپ انسان کو انساں نہیں ہونے دیتے
خود نمائی میں کچھ اس طرح گرفتار ہیں ہم
اور لوگوں کو نمایاں نہیں ہونے دیتے
نئی ہوا میں کوئی رنگ کائنات میں گم
ہوا ہے سارا زمانہ تصنعات میں گم
گلے کا ہار کہیں بن نہ جائے محرومی
نہ ہونا بھول کے حسن تکلفات میں گم
کسی بھی شخص پہ اس کو ترس نہیں آتا
امیر شہر ہوا ہے یہ کن صفات میں گم
کہیں بھی راہ نما اب نظر نہیں آتا