Tuesday, 13 April 2021

باغباں جشن بہاراں نہیں ہونے دیتے

 باغباں جشن بہاراں نہیں ہونے دیتے

دیپ الفت کے فروزاں نہیں ہونے دیتے

زہر الفت کا پلاتے ہیں بڑے فخر کے ساتھ

آپ انسان کو انساں نہیں ہونے دیتے

خود نمائی میں کچھ اس طرح گرفتار ہیں ہم

اور لوگوں کو نمایاں نہیں ہونے دیتے

عقل کو شوخئ باطل میں پھنسانے والے

قلب کو صاحب ایماں نہیں ہونے دیتے

غم سے نسبت ہے جنہیں ضبط الم کرتے ہیں

اشک کو زینت داماں نہیں ہونے دیتے

روح افکار کو معیار عطا کرتے ہیں

ہم خیالات کو عریاں نہیں ہونے دیتے

چند لمحے وہ مِرے سامنے رہ کر ابرار

چشم بے تاب کو حیراں نہیں ہونے دیتے


ابرار کرتپوری

No comments:

Post a Comment