Tuesday, 13 April 2021

زمانہ روز جسے یوں ہی سنگسار کرے

زمانہ روز جسے یوں ہی سنگسار کرے

وہ اپنے زخم کہاں تک بھلا شُمار کرے

کوئی بتائے کہاں تک کوئی چمن زادہ

چمن کو اپنا لہو دے کے لالہ زار کرے

وہ جس نے صدیوں بہاروں کے رنگ دیکھے ہوں

خزاں سے اپنے کو وہ کیسے ہمکنار کرے

جو گھر سے نِکلا ہو سچ بولنے کی نیّت سے

قدم قدم پہ وہ اب انتظارِ دار کرے

امیر شہر کے ہاتھوں میں قسمتوں کے چراغ

غریب اپنا کوئی کیسے کاروبار کرے

ہو زخم زخم اگر جس کا لمحۂ اِمروز

وہ کیسے مرہمِ فردا کا انتظار کرے

جو لُٹ گیا ہے فسادوں میں اب اسی کے لیے

یہ حُکم ہے کہ وہ حالات سازگار کرے

اسی کو امن کا اعزاز بھی میسّر ہے

کہ شہر شہر میں پیدا جو اِنتشار کرے

شعور بخش دو ایسا چمن کی کلیوں کو

جو پُھول پُھول کو شائستۂ بہار کرے

غمِ حیات کا منزل شناس کیا ہو گا

وہ آدمی جو رہِ زیست سے فرار کرے

خُودی وہ دولتِ بیدار ہے جو دُنیا میں

گداگری میں بھی انساں کو شہریار کرے

وہی ہے نُورِ بصیرت کا آئینہ فاخر

جو آنکھ آخرِ شب تجھ کو اشکبار کرے


فاخر جلالپوری​

No comments:

Post a Comment