اک ایسی دھوپ کے جس میں شجر سڑے ہوئے ہیں
ہمیں بھی دیکھو اسی دھوپ میں بڑے ہوئے ہیں
زمیں فلک سے بھی، اونچی دکھائی دیتی ہے
کوئی بتائے کہ ہم کس جگہ کھڑے ہوئے ہیں
اگر خدا سے محبت کی بات، سچ ہے تو
فقیر شاہ کے قدموں پہ کیوں پڑے ہوئے ہیں
سوال کرنا یہاں پر گناہ کیوں ٹھہرا؟
اس ایک بات پہ ہم شاہ سے لڑے ہوئے ہیں
سنا کے جن کو لیے جا رہے ہیں داد سبھی
وہ سارے قصے ہمارے ہی تو گھڑے ہوئے ہیں
فقیر، ہاتھ اٹھا کر دعا کریں جیسے
درخت ایسے میری راہ میں کھڑے ہوئے ہیں
عمران مفتی
No comments:
Post a Comment