عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر ایک شعر آیتِ قرآنِ نعت ہے
جو حصر سے ورأ ہے، وہ احسانِ نعت ہے
انسان خوش نصیب بہ فیضانِ نعت ہے
کیا خوب رفعتوں پہ یہ ایوانِ نعت ہے
مخصوص شاعروں سے کہاں خوانِ نعت ہے
سارے جہاں پہ سایۂ دامانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر ایک شعر آیتِ قرآنِ نعت ہے
جو حصر سے ورأ ہے، وہ احسانِ نعت ہے
انسان خوش نصیب بہ فیضانِ نعت ہے
کیا خوب رفعتوں پہ یہ ایوانِ نعت ہے
مخصوص شاعروں سے کہاں خوانِ نعت ہے
سارے جہاں پہ سایۂ دامانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کٹی عشق نبیﷺ میں زندگی صدیق اکبرؓ کی
بنی حق کی رضا ہر اک خوشی صدیق اکبرؓ کی
جہاں میں چار سُو ہے روشنی صدیق اکبرؓ کی
نرالی شمع روشن اک ہوئی صدیق اکبرؓ کی
سرِ عرشِ بریں شہرت ہوئی صدیق اکبرؓ کی
ولی کرتے پھریں سب چاکری صدیق اکبرؓ کی
حریم ناز میں ہلچل میں وہ مچا دوں گا
فُغاں کچھ ایسی کروں گا، فلک ہلا دوں گا
ہنر وری کا نیا معجزہ دکھا دوں گا
جو اشک آنکھوں میں ہے، کیمیا بنا دوں گا
تمہاری چشم توجہ میں آؤں گا اس طور
دکھائے گا جو میرا دل، اسے دعا دوں گا
جنوں ميں ساتھ ہمارا دیا دیا نہ دیا
کچھ اعتبار کسی نے کیا کیا نہ کیا
رہا ہوں مجلس ساقی میں، جام کا کیا ہے
ملا ملا نہ ملا، پھر پیا پیا نہ پیا
ہمارے سر پہ ہی الزام عاشقی کا رہا
یہ بار غیر نے سر پر لیا لیا نہ لیا
صاحب! ہمیں آنکھیں نہ دکھاؤ، چلو جاؤ
عاشق کو نہ مرنے سے ڈراؤ، چلو جاؤ
ساقی کا تقدس ہے سوا عرشِ بریں سے
گُن زہدِ ریائی کے نہ گاؤ، چلو جاؤ
میخانے کے آداب کو ملحوظ رکھو کچھ
خاموش رہو، غل نہ مچاؤ، چلو جاؤ
عدو ساری خدائی ہو چکی بس
محبت میں کمائی ہو چکی بس
قیامت، بے ادائی ہو چکی بس
غضب تیری جدائی ہو چکی بس
ہوئی ہے درپئے جاں اب ہمیں تو
کٹھن تجھ تک رسائی ہو چکی بس