Showing posts with label خالد رومی. Show all posts
Showing posts with label خالد رومی. Show all posts

Friday, 1 December 2023

ہر ایک شعر آیت قرآن نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہر ایک شعر آیتِ قرآنِ نعت ہے

جو حصر سے ورأ ہے، وہ احسانِ نعت ہے

انسان خوش نصیب بہ فیضانِ نعت ہے

کیا خوب رفعتوں پہ یہ ایوانِ نعت ہے

مخصوص شاعروں سے کہاں خوانِ نعت ہے

سارے جہاں پہ سایۂ دامانِ نعت ہے

Friday, 23 June 2023

کٹی عشق نبی میں زندگی صدیق اکبر کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کٹی عشق نبیﷺ میں زندگی صدیق اکبرؓ کی

بنی حق کی رضا ہر اک خوشی صدیق اکبرؓ کی

جہاں میں چار سُو ہے روشنی صدیق اکبرؓ کی

نرالی شمع روشن اک ہوئی صدیق اکبرؓ کی

سرِ عرشِ بریں شہرت ہوئی صدیق اکبرؓ کی

ولی کرتے پھریں سب چاکری صدیق اکبرؓ کی

Thursday, 3 November 2022

حریم ناز میں ہلچل میں وہ مچا دوں گا

 حریم ناز میں ہلچل میں وہ مچا دوں گا

فُغاں کچھ ایسی کروں گا، فلک ہلا دوں گا

ہنر وری کا نیا معجزہ دکھا دوں گا

جو اشک آنکھوں میں ہے، کیمیا بنا دوں گا

تمہاری چشم توجہ میں آؤں گا اس طور

دکھائے گا جو میرا دل، اسے دعا دوں گا

Thursday, 8 September 2022

جنوں ميں ساتھ ہمارا دیا دیا نہ دیا

 جنوں ميں ساتھ ہمارا دیا دیا نہ دیا

کچھ اعتبار کسی نے کیا کیا نہ کیا

رہا ہوں مجلس ساقی میں، جام کا کیا ہے

ملا ملا نہ ملا، پھر پیا پیا نہ پیا

ہمارے سر پہ ہی الزام عاشقی کا رہا

یہ بار غیر نے سر پر لیا لیا نہ لیا

Thursday, 11 August 2022

صاحب ہمیں آنکھیں نہ دکھاؤ چلو جاؤ

 صاحب! ہمیں آنکھیں نہ دکھاؤ، چلو جاؤ

عاشق کو نہ مرنے سے ڈراؤ، چلو جاؤ

ساقی کا تقدس ہے سوا عرشِ بریں سے

گُن زہدِ ریائی کے نہ گاؤ، چلو جاؤ

میخانے کے آداب کو ملحوظ رکھو کچھ

خاموش رہو، غل نہ مچاؤ، چلو جاؤ

Friday, 5 August 2022

عدو ساری خدائی ہو چکی بس

 عدو ساری خدائی ہو چکی بس

محبت میں کمائی ہو چکی بس

قیامت، بے ادائی ہو چکی بس

غضب تیری جدائی ہو چکی بس

ہوئی ہے درپئے جاں اب ہمیں تو 

کٹھن تجھ تک رسائی ہو چکی بس

Wednesday, 30 March 2016

پڑھو لا الہ الا اللہ یا سرور عالم صل علٰی

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
پڑھو لا الہ الا اللہ یا سرورِ عالم صل علٰی

مالک کے غضب سے ڈرتے چلو
 کلیوں سے دامن بھرتے چلو
تعریف نبیﷺ کی کرتے چلو
پڑھو لا الہ الا اللہ یا سرورِ عالم صل علٰی
سلطانِ دو عالم، ختمِ رُسُلؐ
 اُمی لقب و استادِ کُل

Tuesday, 29 March 2016

آج شور پس دیوار نے سونے نہ دیا

آج شور پس دیوار نے سونے نہ دیا
پھر ہمیں جشن کے آثار نے سونے نہ دیا
آپ کے حسنِ طرحدار نے سونے نہ دیا
کششِ گیسوئے خمدار نے سونے نہ دیا
پھر بھڑک اٹھی ہیں چنگاریاں دل میں کیا کیا
پھر کسی آہِ شرر بار نے سونے نہ دیا