Thursday, 11 August 2022

صاحب ہمیں آنکھیں نہ دکھاؤ چلو جاؤ

 صاحب! ہمیں آنکھیں نہ دکھاؤ، چلو جاؤ

عاشق کو نہ مرنے سے ڈراؤ، چلو جاؤ

ساقی کا تقدس ہے سوا عرشِ بریں سے

گُن زہدِ ریائی کے نہ گاؤ، چلو جاؤ

میخانے کے آداب کو ملحوظ رکھو کچھ

خاموش رہو، غل نہ مچاؤ، چلو جاؤ

بیمارِ محبت کو اذیت نہیں دیتے

مجبور کو ایسے نہ ستاؤ، چلو جاؤ

ہے لغزشِ مستانہ ہماری بڑی بھاری

تقویٰ کی نہ دھونس اپنے جماؤ چلو جاؤ

اتنے بھی نہیں دودھ کے زاہد دُھلے کچھ آپ

ہر بات پہ کیوں کھاتے ہو بھاؤ، چلو جاؤ

یوں رنگ میں تم بھنگ نہ ڈالو، مِری مانو

بے بات نہ اب بات بڑھاؤ، چلو جاؤ


خالد رومی

No comments:

Post a Comment