Thursday, 11 August 2022

دل و نظر سے کارواں ہنسی خوشی جدا کیے

 دل و نظر سے کارواں ہنسی خوشی جدا کِیے

جنہیں بُھلانا چاہیے تھا، لوگ وہ بُھلا دئیے

نہ مصلحت شعار بن نہ بُزدلوں میں ہو شمار

ہوا کا رُخ نہ دیکھ تُو، نہ خوف سے جلا دِیے

فروخت کل بھی کب کیے گلاب و یاسمن کے پھول

یقین کر کہ آج بھی تِرے لیے بچا لیے

کسی شراب نے بھی پھر اثر ذرا نہیں کِیا

تِرے بغیر جانِ جاں! سبو ہزار ہا پِیے

غریب اور امیر کی نہ زندگی میں فرق ہو

سروش! کائنات میں ہر ایک، ایک سا جیے


اجمل سروش

No comments:

Post a Comment