آزار بے شمار سہے، کچھ نہیں بنا
آنکھوں سے اضطرار بہے کچھ نہیں بنا
بے سود اضطراب ہے بعد از فراقِ دوست
ہم برسوں محوِ یاس رہے، کچھ نہیں بنا
کچھ خواب تو عذاب تھے آنکھیں ہی لے گئے
چپ کر کے ہجرِ یار سہے، کچھ نہیں بنا
ہم نے فریب کارِ محبت کے سامنے
رو رو کے حالِ دل کہے کچھ نہیں بنا
تابندگی جنون کی قائم تو ہے، مگر
دل محوِ اختلاف رہے، کچھ نہیں بنا
فضہ بتول
No comments:
Post a Comment