کون کہہ سکتا ہے اب ان کو خطا کے دھبے
اجلی پوشاک میں پھرتے ہیں نہا کے دھبے
اب بھی کرتا ہوں وہ مخمل سی ہتھیلی محسوس
اب بھی موجود ہیں دامن پہ حنا کے دھبے
غم کے صحرا سے نکل آئے تھے شاید کچھ لوگ
کتنے چہروں پہ نظر آئے ہوا کے دھبے
کون کہہ سکتا ہے اب ان کو خطا کے دھبے
اجلی پوشاک میں پھرتے ہیں نہا کے دھبے
اب بھی کرتا ہوں وہ مخمل سی ہتھیلی محسوس
اب بھی موجود ہیں دامن پہ حنا کے دھبے
غم کے صحرا سے نکل آئے تھے شاید کچھ لوگ
کتنے چہروں پہ نظر آئے ہوا کے دھبے
یہ دل کا درد بھی جاگا ہوا سا رہتا ہے
اندھیری رات کا سایہ گھنا سا رہتا ہے
چمکتی راکھ میں شعلہ دبا سا رہتا ہے
کسی کا نام بھی لب پر رکا سا رہتا ہے
ہماری آنکھ کی مٹی ہمیشہ نم ہی رہی
ہمارا زخم جگر بھی ہرا سا رہتا ہے
چشم انا سے بادۂ غم پی رہا تھا وہ
کل رات اپنے آپ میں ڈوبا ہوا تھا وہ
مجھ کو مرے وجود سے باہر جو لے گیا
میرے ہی روپ میں کوئی بہروپیا تھا وہ
شور اس کو زندگی کا سنائی نہیں دیا
شاید کسی کی چاہ میں ڈوبا ہوا تھا وہ
چھلکے نہیں صدیوں سے یہ پلکوں کے کٹورے
مدت سے ہیں خالی مِری آنکھوں کے کٹورے
احساس کی اک چیخ سے ہو جاتے ہیں ٹکڑے
مٹی کے کھلونے ہیں کہ جذبوں کے کٹورے
آ جائے مجھے نیند کا جھونکا بھی کسی دن
بھر جائیں کسی رات یہ خوابوں کے کٹورے