Showing posts with label معین افروز. Show all posts
Showing posts with label معین افروز. Show all posts

Tuesday, 24 March 2026

اجلی پوشاک میں پھرتے ہیں نہا کے دھبے

 کون کہہ سکتا ہے اب ان کو خطا کے دھبے

اجلی پوشاک میں پھرتے ہیں نہا کے دھبے

اب بھی کرتا ہوں وہ مخمل سی ہتھیلی محسوس

اب بھی موجود ہیں دامن پہ حنا کے دھبے

غم کے صحرا سے نکل آئے تھے شاید کچھ لوگ

کتنے چہروں پہ نظر آئے ہوا کے دھبے

Wednesday, 9 July 2025

یہ دل کا درد بھی جاگا ہوا سا رہتا ہے

 یہ دل کا درد بھی جاگا ہوا سا رہتا ہے

اندھیری رات کا سایہ گھنا سا رہتا ہے

چمکتی راکھ میں شعلہ دبا سا رہتا ہے

کسی کا نام بھی لب پر رکا سا رہتا ہے

ہماری آنکھ کی مٹی ہمیشہ نم ہی رہی

ہمارا زخم جگر بھی ہرا سا رہتا ہے

Tuesday, 1 July 2025

چشم انا سے بادۂ غم پی رہا تھا وہ

 چشم انا سے بادۂ غم پی رہا تھا وہ

کل رات اپنے آپ میں ڈوبا ہوا تھا وہ

مجھ کو مرے وجود سے باہر جو لے گیا

میرے ہی روپ میں کوئی بہروپیا تھا وہ

شور اس کو زندگی کا سنائی نہیں دیا

شاید کسی کی چاہ میں ڈوبا ہوا تھا وہ

Saturday, 30 January 2021

چھلکے نہیں صدیوں سے یہ پلکوں کے کٹورے

چھلکے نہیں صدیوں سے یہ پلکوں کے کٹورے

مدت سے ہیں خالی مِری آنکھوں کے کٹورے

احساس کی اک چیخ سے ہو جاتے ہیں ٹکڑے

مٹی کے کھلونے ہیں کہ جذبوں کے کٹورے

آ جائے مجھے نیند کا جھونکا بھی کسی دن

بھر جائیں کسی رات یہ خوابوں کے کٹورے