Wednesday, 3 June 2026

دل مضطر تری فرقت میں بہلایا نہیں جاتا

 دلِ مُضطر تِری فُرقت میں بہلایا نہیں جاتا

کسی پہلو سے یہ نادان سمجھایا نہیں جاتا

نمک پاشی مِرے زخموں پہ یہ کہہ کہہ کے کرتے ہیں

ذرا سی بات میں یوں اشک بھر لایا نہیں جاتا

ڈراتا کیوں ہے اے ناصح! محبت کی کشاکش سے

پھنسا کر دل کو اس کُوچے سے کترایا نہیں جاتا

مِری زُلفیں ہٹا کر رُخ سے وہ کہتے ہیں ہنس ہنس کر

اندھیری رات ہے ایسے میں شرمایا نہیں جاتا

غم و آلام نے اس درجہ ہم کو کر دیا گھائل

خُود اپنی داستاں کو ہم سے دُہرایا نہیں جاتا

بڑی اس بیکسی کی منزلیں پُر ہول ہوتی ہیں

کسی سے جب کوئی تسنیم اپنایا نہیں جاتا


جمیلہ خاتون تسنیم

No comments:

Post a Comment