Thursday, 11 June 2026

کبھی کبھی چپ ہو جانے کی خواہش ہوتی ہے

 کبھی کبھی چپ ہو جانے کی خواہش ہوتی ہے

ایسے میں جب تیر ستم کی بارش ہوتی ہے

حال ہمارا سننے والے جانے کیا سوچیں

یوں بھی کیسی کیسی ذہنی کاوش ہوتی ہے

دیواروں پر کیا لکھا ہے پڑھ کے بتلاؤ

کیا ایسی باتوں پر یارو نالش ہوتی ہے

ہم اس کی تعمیل میں دیوانے بن جاتے ہیں

دل ایسے ناداں کی جب فرمائش ہوتی ہے

دنیا سے اک روز ہماری بات ہوئی چھپ کر

 سو بے چاری کی اب تک فہمائش ہوتی ہے

ایک ہی چھت کے نیچے چاروں وحشی کیا بیٹھے

داناؤں نے سمجھا کوئی سازش ہوتی ہے


خالد عبادی

No comments:

Post a Comment