دل کہیں مُبتلا نہ ہو جائے
بے خطا ہی سزا نہ ہو جائے
عرضِ مطلب بھی کہہ نہیں سکتا
بات اپنی خطا نہ ہو جائے
درد کو بھی چُھپا کے رکھتا ہوں
خوف یہ ہے شفا نہ ہو جائے
دل کہیں مُبتلا نہ ہو جائے
بے خطا ہی سزا نہ ہو جائے
عرضِ مطلب بھی کہہ نہیں سکتا
بات اپنی خطا نہ ہو جائے
درد کو بھی چُھپا کے رکھتا ہوں
خوف یہ ہے شفا نہ ہو جائے
محبت میں جفا ہوتی رہی ہے
نہ جانے کیا خطا ہوتی رہی ہے
کسے معلوم میرے دل کی حالت
تِری محفل میں کیا ہوتی رہی ہے
متاعِ کارواں لُٹتے ہوئے بھی
تلاشِ رہنما ہوتی رہی ہے
کسی نامہرباں کو مہرباں ہم کہہ نہیں سکتے
قفس سونے کا بھی ہو آشیاں ہم کہہ نہیں سکتے
کوئی کہہ دے زباں رکھنے کا منہ میں فائدہ کیا ہے
کسی کے سامنے جب داستاں ہم کہہ نہیں سکتے
نہ جانے کیا اثر ہوتا ہے ہم پر ان کی محفل میں
یہاں کہتے ہیں ہم وہاں جو کچھ وہاں ہم کہہ نہیں سکتے
دید جاناں جو عام ہو جائے
کارِ دنیا تمام ہو جائے
رُوٹھ جائے وہ صبح ہوتے ہی
اور منانے میں شام ہو جائے
میکدے میں نماز پڑھ لیں گے
کاش ساقی امام ہو جائے
آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد
ہو گی نہ روشنی کبھی اس روشنی کے بعد
مجھ کو وفا بھی روئے گی میری کمی کے بعد
آتی ہے یاد آدمی کی آدمی کے بعد
وہ حال ہو گا بزمِ جہاں کا میرے بغیر
ہوتا ہے رنگ بزم کا جو برہمی کے بعد
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیوں کر نہ کروں مدحتِ سلطانِ مدینہ
جب پیش نظر ہوں مِرے فیضانِ مدینہ
تہذیب کا گہوارہ دبستانِ مدینہ
یہ خاکِ عرب ہے وہ مِری جانِ مدینہ
خوشبوئے محبت سے معطر ہے زمانہ
کس شان سے مہکا ہے گُلستانِ مدینہ