Tuesday, 22 September 2026

موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے

 موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے

وہ شب ظلمت میں کتنے جانے پہچانے رہے

ہوش والوں کو تماشے دیکھتے ہی منتظر

دل پہ پتھر رکھ کے ہم اک عمر دیوانے رہے

فاتح شب کی ہوس میں روشنی پہ مر مٹے

خودکشی کی آڑ میں بے خوف پروانے رہے

تج کے در تیرا مِری آوارگی جاتی کہاں

وہ تو کہیے شہر میں بے لوث میخانے رہے

نہ حسیں خوابوں کا موسم اور نہ گل کی آرزو

اتنی مایوسی میں بھی ہم زندگی تانے رہے

بے نیاز دہر ہو کر عشق ہم کرتے رہے

اور زمانے کے لبوں پر صرف افسانے رہے

اک نظر میں لُٹ گیا تھا دل کا شہر آرزو

زندگی میں دور تک خوابوں کے ویرانے رہے


منتظر قائمی

No comments:

Post a Comment