Saturday, 19 September 2026

وہ ایک شخص جو پورا مرا نہیں بنتا

 وہ ایک شخص جو پورا مِرا نہیں بنتا

خدا تو بنتا ہے پر آسرا نہیں بنتا

کہیں پہ واسطہ ہونے کے باوجود سُنو

کسی حوالے سے بھی واسطہ نہیں بنتا

ہماری آنکھ سے دل تک رسائی کیسے ہو

عطا بغیر یہاں راستہ نہیں بنتا 

یہ دل اصول پرستی کا مُعتقد ٹھہرا

سبھی کا بنتا ہے پر آپ کا نہیں بنتا

تمہارا ہنسنا ہے معجز نمائیوں کا وجود

ہمارے رونے سے تو معجزہ نہیں بنتا

خراب لوگ بھی حالات کی ضرورت ہیں

بنایا جاتا ہے کوئی بُرا نہیں بنتا

طوالتوں پہ کبھی اِختصار وارا کر

گلے لگانے سے تو حوصلہ نہیں بنتا 

میں ایک جیسے ہی سپنے بناتی رہتی ہوں

کوئی خیال بھی تُجھ سے جُدا نہیں بنتا

کسی بھی درد کی نعمت تِرا نصیب نہیں

تِرا شعور اگر کربلا نہیں بنتا

میں زندگانی کا جب زائچہ بناتی ہوں

یہ زائچہ بھی تو تیرے سِوا نہیں بنتا

وہ بے خیالی میں ہنستا ہُوا مجھے دیکھے

جو کہہ رہا ہے کہ اب مُعجزہ نہیں بنتا

یہ شعر گوئی بھی مہوش عذاب ہو جاتی

اگر خیال کا حُجرہ نیا نہیں بنتا


مہوش احسن لاشاری

No comments:

Post a Comment